1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مزدورں کا عالمی دن: جرمنی کے کئی شہروں میں ریلیوں کا انعقاد

آج دنیا بھر میں مزدورں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ دیگر ممالک کی طرح جرمنی کے بھی متعدد شہروں میں بڑی بڑی ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔

جرمن دارالحکومت برلن اور جرمنی کے شمالی بندرگاہی شہر ہیمبرگ میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل کر مزدوروں کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقد ہونے والے مظاہروں میں شریک ہو رہے ہیں۔ پولیس کی طرف سے اب تک چند چھوٹے موٹے ناخوشگوار واقعات کے رونما ہونے کے علاوہ ان مظاہروں کو پُرسکون قرار دیا جا رہا ہے۔

برلن حکام کے مطابق جرمن دارالحکومت میں گزشتہ شب ہی مزدورں کے عالمی دن کے حوالے سے ایک ریلی کا انعقاد ہوا تھا جس میں دو ہزار سے زائد مظاہرین نے شرکت کی تھی۔ قریب 760 افراد برلن کے گنجان آباد علاقے نوئے کولن میں جمع ہو کر مزدورں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جب کہ پرنسلاور برگ کے علاقے میں قائم ماؤور پارک میں ہزاروں لوگوں نے پُر امن احتجاج میں شرکت کی۔

ہیمبرگ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق خصوصی ریاستی درجے کے حامل اس شہر میں تشدد کے چند واقعات میں مشتعل مظاہرین نے پولیس پر خالی بوتلیں پھنکیں اور انہوں نے ایک سرکاری گاڑی کو بھی آگ لگا دی۔ اس واقعے میں مبینہ طور پر ملوث ایک 24 سالہ نوجوان کو پولیس نے گرفتار بھی کر لیا۔

غیر ملکیوں، خاص طور سے ترک باشندوں کا گڑھ سمجھے جانے والے برلن کے ڈسٹرکٹ ویڈنگ میں بھی ہفتے کے روز جگہ جگہ جلسوں اور مظاہروں کا انعقاد ہوا۔ برلن پولیس کے ایک ترجمان ٹیمو سیل نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس بار اب تک یکم مئی کے مظاہرے اور جلسے گزشتہ برس منائے جانے والے مزدورں کے عالمی دن کے مقابلے میں کہیں زیادہ پُر امن رہے۔

گزشتہ برس یکم مئی کو برلن اور ہیمبرگ میں بائیں بازو کے چند گروپوں نے مزدورں کے عالمی دن کے موقع پر منعقد ہونے والے جلسے جلوس میں شرکت کی تھی۔

آج اتوار کو مزید احتجاجی جلوس اور ریلیوں کا انعقاد ہو رہا ہے۔ برلن اور ہیمبرگ سمیت متعدد دیگر بڑے شہروں میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔