1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مزار شریف میں باغیوں کے گرد اسپیشل فورسز کا گھیرا تنگ

شمالی افغان شہر مزار شریف میں بھارتی قونصل خانے کے نزدیک ایک مکان میں مورچہ بند باغیوں اور افعان اسپیشل فورسز کے مابین مسلح جھڑپیں گزشتہ رات سے جاری ہیں۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق گھیرے میں آئے ہوئے حملہ آور مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں اب تک ایک سکیورٹی گارڈ اور دو حملہ آور ہلاک ہو چکے ہیں۔ صوبہ بلخ کے گورنر کے ترجمان منیر فرہاد کے مطابق حملہ آور قونصل خانے میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکے اور قونصل خانے کا تمام اسٹاف محفوظ ہیں۔ افغان فورسز نے عمارت کو گھیرے میں لیا ہوا ہے۔

مسلح حملہ آوروں کے ایک چھوٹے گروپ نے اتوار کے روز شام دیر گئے بھارتی قونصل خانے کی عمارت میں داخل ہونے کی ناکام کوشش کی تھی۔ دہشت گردوں نے یہ کارروائی ایک ایسے وقت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے کی تھی جب بہت سے لوگ افغانستان اور بھارت کے مابین ہونے والا فُٹ بال میچ دیکھنے میں مصروف تھے۔ افغانستان میں یہ واقعہ ایک ایسے میں وقت پیش آیا جب پاک بھارت سرحد کے نزدیک ایک بھارتی فضائی اڈے ’’پٹھان کوٹ ائیر بیس‘‘ پر مسلح افراد کے ساتھ سکیورٹی فورسز جھڑپ جاری رکھے ہوئے تھے۔ پٹھان کوٹ کا ہوائی مرکز شمالی بھارت کا سب سے بڑا ایئر بیس ہے۔

Afghanistan Angriff auf das Indische Konsulat in Mazar-i-Sharif

مزار شریف میں قائم بھارتی قونصل خانے پر حملے کے بعد افغان فورسز نے تمام علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے

اطلاعات کے مطابق مزارشریف میں قائم بھارتی قونصل خانے میں گھُسنے کی کوشش ناکام ہونے کےبعد حملہ آوروں نے ایک قریبی مکان میں داخل ہو کر خود کو وہاں بند کر لیا تھا جہاں پیر کی صبُح افغان سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کے خلاف ایک بڑا آپریشن کیا تاہم فورسز سست روی سے اپنی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ کم سے کم شہریوں کو نقصان پہنچے۔ ان کا یہ آپریشن شدید بارش کے سبب بھی مشکلات کا شکار ہے۔

دریں اثناء صوبائی حکومت کے ایک ترجمان عطا محمد نور نے اپنے فیس بُک پیج پر پیغام تحریر کیا ہے کہ،’’ تمام تر علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے اور ہم نہایت احتیاط سے اپنی کارروائی کو آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ شہریوں کی جانوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکے لیکن حملہ آوروں کو ہلاک کیا جائے گا‘‘۔

مقامی ذرائع کے مطابق اُزبکستان سے ملحقہ افغان صوبے بلخ کے اس شہر میں شہریوں کو افغان فوج اور پولیس کمانڈوز نے بھاری مشین گنوں اور راکٹ سے چلنے ولے گرینیڈ اور توپوں سے گولے داغے جانے کی آوازیں سنائی دیں۔ بتایا گیا ہے کہ شہر کے ایک رہائشی علاقے پر مسلسل ہیلی کاپٹرز فضائی نگرانی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Afghanistan Angriff auf das Indische Konsulat in Mazar-i-Sharif

بھارتی قونصل خانے کا عملہ محفوظ ہے

ایک دستی بم سے ایک شہری کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جبکہ پانچ سکیورٹی اہلکاروں کو معمولی زخم آئے ہیں تاہم بھارتی سفیر نے کہا ہے کہ بھارتی قونصل خانے کے تمام اہلکار محفوظ ہیں۔

صوبائی حکومت کے ترجمان عطا محمد نور نے ان حملوں کا ذمے دار افراد کو ’’ امن اور استحکام دشمن عناصر کو ٹھہرایا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ دہشت گردانہ حملے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی نظر آتی ہے جو ایسے وقت میں بروئے کار لائی گئی ہے جب پاکستان اور اُس کے روایتی حریف بھارت کے مابین تعلقات میں بہتری کی از سر نو کوششیں شروع کی گئی ہیں اور دوسری جانب افغانستان میں طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

اب تک ان حملوں کے پیچھے کارفرما عناصر کے بارے میں کوئی واضح نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔

DW.COM