1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

'مرے کو مارے شاہ مدار' سیلاب متاثرین کی صورتحال

پاکستانی تاریخ کا بدترین سیلاب ملک بھر میں تباہی پھیلاتا ہوا اب ملک کے جنوبی علاقوں میں پہنچ گیا ہے۔ متاثرہ علاقوں کے لوگ اس سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لئے محفوظ اور اُونچے علاقوں کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔

default

پاکستانی تاریخ کا بد ترین سیلاب

صوبہ سندھ کے ایک شہر سجاول کے زیرِآب آنے کے بعد وہاں کے مکینوں کو بھی محفوظ مقامات کا رُخ کرنا پڑا اور متاثرین نے پہاڑیوں پر واقع مکلی کے تاریخی قبرستان کی طرف نقل مکانی کی جہاں ان کے لئے ایک عارضی امدادی کیمپ تو لگایا گیا ہے، مگر لوگ مکلی کی پہاڑیوں پر بیٹھے امدادی ٹرکوں اور سامان کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان متاثرین میں سے اکثر روزہ دار بھی ہیں۔ جیسے جیسے مغرب کا وقت قریب آتا ہے دن بھر کی گرمی سے بے حال ان لوگوں کے انتظار میں شدت اور صبر میں کمی بھی آتی جاتی ہے، بہت کم لوگ ایسے ہیں جو سیلاب کے خطرے کی پیشِ نظر اپنے گھروں سے بھاگتے ہوئے کچھ کھانے پینے کا سامان ساتھ لا سکے ہیں۔ پچاس سالہ غلام قادر کا کہنا یے: "ہمارے پاس جو پیسے اور کھانے پینے کا سامان ہے وہ ہم اپنے بچوں کے لئے بچا رہے ہیں۔"

Pakistan Mausoleum des Staatsgründers Jinnah

صوبائی حکومت نے کرچی میں بری تعداد میں امدادی کیمپ لگائے ہیں

قریب ہی واقع ٹھٹہ شہر کے بازار بھی خالی اور سنسان پڑے ہیں کیونکہ سیلاب کے خطرے کے باعث حکام نے ٹھٹہ شہر کو بھی خالی کرا لیا تھا اور اس کی وجہ سے اب وہاں کھانے پینے کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے۔

امدادی ٹرک اور گاڑیاں اس عارضی کیمپ کا رخ کر رہی ہیں مگر وہ ناکافی سامان ان متاثرین کے سامنے پھینکتی ہیں اور پھر روانہ ہوجاتی ہیں۔ یہ امدادی ٹرک ان لوگوں میں دال، چاول، چینی اور آٹے کے تھیلے بانٹ دیتے ہیں مگر وہ بھی ان بے گھر،گرمی کی شدت کے ستائے ہوئے روزاداروں کے لئے ناکافی ہوتے ہیں اور یہ مظلوم لوگ امداد کے لئے ان ٹرکوں کے گرد جمع ہوجاتے ہیں۔

سجاول کے پچیس سالہ شہری حسین مالا کا کہنا ہے: "امداد باٹنے والے لوگ ہمارے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرتے ہیں اور اکثر کچھ امداد سے بھرے ڈبے ہمارے طرف پھینک دیتے ہیں بغیر یہ دیکھے کہ کس کو کیا مل رہا ہے۔ سامان کی کمی کی وجہ سے ہمارے درمیان اکثر لڑایاں ہو جاتی ہیں اور کبھی تو یہ لوگ ہمیں کچھ دیتے بھی نہیں ہیں۔ لوگ ان امدادی ٹرکوں اور گاڑیوں سے لٹک جاتے ہیں۔ اور اس وجہ سے کچھ لوگ ٹرکوں سے گر کر زخمی بھی ہوجاتے ہیں۔"

ان تمام واقعات، تناؤ، لوگوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور مایوسی کے باوجود پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سوائے دو تین 'معمولی واقعات' کے حالات قابو میں ہے۔ البتہ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنوبی سندھ میں سیلاب کے باعث پیدا ہونے والی اس تمام صورتحال کے بارے میں وہ کافی فکر مند ہیں اور کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ ان متاثرین کو جلد از جلد اس علاقے سے

Pakistan Hochwasser Flut

سیلاب کےمتاثرین ناکافی امداد سے پریشان

نکال کر محفوظ مقامات پر لے جائیں۔

صوبے سندھ کے وزیرِداخلہ ذوالفقار مرزا کا کہنا ہے: " ہم نے کراچی میں چالیس ہزار متاثرین کے لئے کیمپ لگائے ہیں مگر ابھی تک وہاں کوئی نہیں آیا ہے، ہم یقین دلاتے ہیں کہ ان کیمپوں میں متاثرین کو ہر قسم کی معاونت ملے گی۔"

صوبائی وزیر کی یہ یقین دہانی لوگوں لے لئے کافی نہیں ہے،سجاول سے تعلق رکھنے والے اکتیس سالہ بابر سولنگی کا کہنا ہے: "میں حکومت کا شکر گزار ہوں کہ اس نے سیلاب سے ہماری جانیں بچانے کے لئے ہمیں گاڑیاں اور ٹرک بھیجے مگر کیمپوں میں کوئی امداد نہیں ہوتی، میں افطار کیسے کروں جب کہ میرے پاس سوائے تن ڈھانپنے کے اس قمیض کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔"

اُدھر حکومت ٹھٹہ شہرکو تو بچانے میں کامیاب ہوگئی ہے مگر اب یہ سیلابی ریلا سندھ کے دو چھوٹے گاؤں 'جاتی' اور 'چوہر جمالی' کا رخ کر رہا ہے۔

اس سیلاب میں سب سے زیادہ جنوبی سندھ متاثر ہوا ہے جس کے تیس میں سے انیس اضلاع سیلابی ریلوں کا نشانہ بن گئے ہیں۔

سندھ حکومت کے ترجمان جمیل سومرو کا کہنا ہے کا صوبے میں سیلاب کی وجہ سے ایک ملین افراد بےگھر ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ سیلابی پانی کی وجہ سے پیھلنے والی بیماریوں سے اب تک 147افراد ہلاک ہوچکے ہیں جس میں زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔

رپورٹ : سمن جعفری

ادارت : افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس