1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مریم اورنگزیب وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات تعینات

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے رکن قومی اسمبلی مریم اورنگزیب کو وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات تعینات کر دیا ہے۔ انہیں وزیراعظم کی بیٹی مریم نواز شریف کے قریب بھی سمجھا جاتا ہے۔

مریم اورنگزیب پارلیمانی سکریٹری کا عہدہ بھی رکھتی ہیں۔ مریم اورنگزیب، مریم نواز کے تعلیمی سیکٹرکے پروگرام میں ان کی معاونت کر چکی ہیں۔

 جہاں پاکستان کے سوشل میڈیا پر پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج اور ریلیوں سے متعلق ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں، وہیں مریم اورنگزیب کے بطور وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات تعینات ہونے کے بعد ان کا نام بھی سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹرینڈنگ ہیش ٹیگز میں آرہا ہے۔

ہفتے کے روز یہ خبر منظر عام پر آئی تھی کہ پرویز رشید سے وزیر اطلاعات و نشریات کا عہدہ لے لیا گیا ہے۔ کچھ روز قبل ڈان نیوز پر شائع ہونے والی خبر کے پس منظر میں پرویز رشید کو عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔

ڈان کی رپورٹ میں صحافی سیرل المیڈا نے اپنی رپورٹ میں قومی سلامتی کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملک کی جمہوری قیادت اور فوج کے درمیان شدت پسندوں کی معاونت کے معاملے پر اختلافات کا ذکر کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس اجلاس میں فوج سے کہا گیا تھا، ’’یا تو عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کیا جائے یا پھر بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا سامنا کریں۔‘‘

دہشت گردی کے حوالے سے پاکستانی حکومت کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنانے والے جبران ناصر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’ مریم اورنگزیب یہ کہہ چکی ہیں کہ اگر چودھری نثار کہہ رہے ہیں کہ عبدالعزیز کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہیں تو ہمیں ان کی بات پر یقین کرنا چاہیے، بالکل پرفیکٹ وزیر اطلاعات۔‘‘

مریم اورنگزیب کو یہ قلمدان اس وقت ملا ہے جب حکومت پی ٹی آئی کے احتجاج اور دھرنے کی کال سے انتہائی دباؤ میں ہے۔