1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

مریخ کے لیے امریکی خلائی گاڑی ’ایک عجوبہ‘

امریکی خلائی ایجنسی ناسا اس مہینے کے آخر میں اپنے آج تک کے سب سے بڑے اور مہنگے روبوٹک خلائی مشن کی تیاریاں کر رہی ہے۔ اس مشن کا تعلق مریخ کے سیارے سے ہے۔

default

امریکی خلائی ایجنسی ناسا اس مہینے کے آخر میں اپنے آج تک کے سب سے بڑے اور مہنگے روبوٹک خلائی مشن کی تیاریاں کر رہی ہے۔ اس مشن کا تعلق مریخ کے سیارے سے ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایک ایسی روبوٹک وہیکل تیار کی گئی ہے جو مریخ کے مشن پر جا کر وہاں ماضی میں کسی وقت موجود زندگی کے ممکنہ طور پر ابھی تک دستیاب اثرات کا پتہ لگانے کی کوشش کرے گی۔

امریکی خلائی ادارے ناسا نے اس خلائی گاڑی کو The Curiosity کا نام دیا ہے۔ پہلے اسے مریخ سائنس لیبارٹری یا MSL کا نام دیا گیا تھا۔ یہ روبوٹک وہیکل ایک ایسی جدید ترین تخلیق قرار دی جا رہی ہے جس کی تیاری پر 2.5 بلین ڈالر کے قریب لاگت آئی ہے۔کیوریوسٹی پر انتہائی جدید ویڈیو کمیروں کے علاوہ ایک ایسی بہت ہی حساس لیکن موبائل tool kit بھی لگی ہوئی ہے، جس کے ذریعے سرخ سیارہ کہلانے والے مریخ کی سطح پر مٹی اور پتھروں کا تجزیہ کیا جا سکے گا۔

Future Now Projekt Weltraum Bild 6 Sonnensystem

Curiosity کا وزن 899 کلو گرام یا 1982 پاؤنڈ بنتا ہے۔ اس کی لانچنگ 25 نومبر کو عالمی وقت کے مطابق سہ پہر تین بج کر 21 منٹ پر اور مقامی وقت کے مطابق رات دس بج کر21 منٹ پر ریاست فلوریڈا میں کیپ کنیورل کے خلائی اڈے سے عمل میں آئے گی۔

ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری میں MSL کے نائب پروجیکٹ سائنسدان اشوین واساوادا کے بقول یہ خلائی گاڑی مریخ کے بارے میں معلومات کے حصول کے لیے ایک ایسی وہیکل ہے جس کا کوئی بھی خلائی سائنسدان اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں خواب دیکھ سکتا ہے۔ اشوین واساوادا کے مطابق وہ اور ان کے ساتھی ماہرین بڑے پرجوش ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’یہ ان سب خلائی جہازوں میں سے سب سے جدید اور باصلاحیت خلائی گاڑی ہے، جو آج تک امریکہ کی طرف سے خلا میں بھیجے گئے ہیں۔‘‘

Future Now Projekt Weltraum Bild 4 Mondmission

اس خلائی گاڑی کے ذریعے، جسے ناسا کے ماہرین عرف عام میں rover کہتے ہیں، مریخ کے جنوبی حصے میں پائے جانے والے ایک بڑے گڑھے کا خصوصی طور پر مشاہدہ کیا جائے گا۔ ماہرین کی طرف سے اس گڑھے کو Gale Crater کا نام دیا جاتا ہے۔

واشنگٹن میں ناسا کے ہیڈ کوارٹرز میں مریخ سے متعلق تحقیقی پروگرام کے ڈائریکٹر Doug McCuistion  کے بقول Curiosity خلائی انجینئرنگ کی دنیا میں ایک ایسی شاہکار تخلیق ہے جو بلاشبہ ایک عجوبہ ہے۔

یہ امریکی خلائی گاڑی مریخ تک پہنچنے سے پہلے 570 ملین کلو میٹر یا 354 ملین میل کا سفر طے کرے گی۔ اسے مریخ تک پہنچنے میں ساڑھے آٹھ ماہ کا عرصے لگے گا اور یہ اگلے سال اگست میں مریخ کی سطح پر اترے گی۔

ماہرین کے مطابق اس خلائی گاڑی کا مریخ کا یہ سفر ان کوششوں کا حصہ ہے جن کے تحت مریخ کی طرف پہلا انسانی مشن ممکنہ طور پر سن 2030 تک روانہ کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس