1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

مریخ کی طرف بھیجا جانے والا خلائی جہاز، جنوری میں زمین پر گر سکتا ہے

روس کی طرف سے مریخ کی طرف بھیجا جانے والا ایک خلائی جہاز خرابی کے باعث زمینی مدار میں گردش کر رہا ہے۔ روسی خلائی تحقیقی ادارے کے سربراہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ مشن جنوری میں زمین پر گِر سکتا ہے۔

default

اس خلائی جہاز کو ’فوبوز گرنٹ پروب‘ (Phobos-Grunt probe) کا نام دیا گیا ہے۔ اس جہاز کو مریخ کے ایک چاند پر اترنا تھا، جہاں سے یہ مٹی کے نمونے لے کر واپس آتا۔ بدھ نو نومبر کو خلا کے لیے چھوڑے جانے کے بعد ممکنہ طور پر کمپیوٹر سافٹ ویئر میں خرابی کے باعث یہ پروب زمین کے گرد مدار میں پھنس کر رہ گیا ہے۔

روسی خلائی تحقیقی ادارے کے سربراہ ولادیمیر پوپوکوون نے ایسی رپورٹوں کی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ یہ پروب خلا میں گُم ہوگیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ سائنسدانوں کے پاس دسمبر تک کا وقت ہے کہ وہ اس پروب کے ساتھ رابطہ بحال کرکے، اس کے پروگرام میں تبدیلی لاتے ہوئے اسے مریخ کی طرف طے شدہ راستے پر روانہ کرسکیں۔

قازقستان میں قائم روس کے بیکانور خلائی مرکز پر پوپوکوون نے روسی خبر رساں اداروں سے گفتگو کرتے ہوئے اس مشن کی بحالی کے بارے میں امید ظاہر کرتے ہوئے کہا: ’’ جنوری تک اس پروب کو اپنے راستے پر بحال کیا جا سکتا ہے، تاہم اسے ری پروگرام کرنے کے حوالے سے وقت دسمبر کے آغاز میں ختم ہو جائے گا۔‘‘

’فوبوز گرنٹ پروب‘ کو مریخ کے ایک چاند پر اترنا تھا، جہاں سے یہ مٹی کے نمونے لے کر واپس آتا

’فوبوز گرنٹ پروب‘ کو مریخ کے ایک چاند پر اترنا تھا، جہاں سے یہ مٹی کے نمونے لے کر واپس آتا

روس کی انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق پوپوکون کا مزید کہنا تھا: ’’ امکان تو ہے، مگر ہم ابھی تک ٹیلی مِیٹرک معلومات حاصل نہیں کر پائے جس سے اندازہ ہوگا کہ آخر لانچ کے بعد اس پروب کو کیا مسئلہ پیش آیا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر سائنسدان اس جہاز کو مریخ کی طرف روانہ کرنے میں ناکام ہوگئے تو پھر یہ زمین کی طرف واپس آجائے گا، کیونکہ اس کی رفتار بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

پوپوکوون نے یہ بات زور دے کر کہی کہ زمین کی طرف واپسی کی صورت یہ پروب فضا میں جل کر ختم ہوجائے گا اور یہ زمین پر کسی قسم کا خطرہ نہیں بنے گا: ’’اس بات کا بہت ہی کم امکان ہے کہ یہ سطح زمین تک پہنچے گا، ہمیں اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ کرہ ارض میں داخل ہونے پر یہ مکمل طور پر جل کر تباہ ہوجائے گا۔‘‘

رپورٹ: افسر اعوان / اے ایف پی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM