1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

مریخ پر زندگی کے آثار، کھوج لگانے کے لیے ناسا کا نیا مشن

امریکی خلائی ادارہ مریخ پر سائنسی تحقیق کرنے اور وہاں زندگی کے آثار تلاش کرنے کے لیے روبوٹ کی مدد سے چلنے والی اب تک کی سب سے جدید اور طاقتور گاڑی خلاء میں بھیج رہا ہے۔

default

سرخ سیارہ مریخ

مریخ سائنس لیبارٹری نامی چھ پہیوں والی گاڑی جوہری ایندھن سے چلتی ہے اور یہ ہفتے کے دن امریکہ کے مقامی وقت کے مطابق صبح دس بج کر دو منٹ پر فلاڈلفیا کے کیپ کینیورل ایئر فورس اسٹیشن سے روانہ ہو گی۔

ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری میں اس منصوبے پرکام کرنے والےسائنسدان اشوین وساوادا نے اس بارے میں کہا، ’’یہ مریخ پرکام کرنے والےکسی بھی سائنسدان کی تصوراتی مشین ہے۔‘‘

خلائی گاڑی جسے Curiosity کا نام بھی دیا گیا ہے کی تیاری پر 2.5 بلین ڈالر لاگت آئی ہے اور اس کی مدد سے سائنسدانوں کو مریخ کی سطح پر موجود چٹانوں اور زمین کے اس قریب ترین ہمسایہ سیارے پر ماضی میں زندگی کے آثار کے بارے میں معلومات ملیں گی۔

بڑی جیپ جتنی جسامت کی حامل یہ گاڑی ایک روبوٹک بازو، کھدائی کرنے والی ڈرل مشین، دس سائنسی آلات بشمول دو رنگین وڈیوکیمروں اور لیزر بیم سے لیس ہے۔

Flash-Galerie NASA Mars

نئی خلائی گاڑی مریخ کی سطح کا جائزہ لینے اور وہاں زندگی کے آثار تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہو گی

اگر سب کچھ معمول کے مطابق ہوا تو Curiosity لگ بھگ نو ماہ بعد یعنی 5 اگست 2012ء کو مریخ کی سطح پر اترے گی اور وہاں سے سائنسدانوں کو معلومات بھیجنا شروع کرےگی۔

ناسا نے مریخ پر تحقیق کا آغاز 1976ء میں Viking نامی خلائی گاڑی سے کیا تھا اور اس کے بعد سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ برسوں میں ادارے نے Spirit اور Opportunity نامی دو خلائی گاڑیاں اس سیارے پر بھیجی تھیں، جن میں سے Spirit کئی سال تک کام کرنے کے بعد گزشتہ سال غیر فعال ہوگئی جبکہ دوسری ابھی تک کامیابی سےکام کر رہی ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کے نزدیک Curiosity مریخ کے طویل سفرکا درمیانی نکتہ ہے، جس کے نتیجے میں 2030ء تک اس سرخ سیارے یا اس کے دو چاندوں میں سے کسی ایک پر انسانی مشن روانہ کیا جا سکتا ہے۔

یہ خلائی گاڑی مریخ کے خط استوا کے نزدیک Gale Crater نامی میدان میں اترے گی اور اس کا انتخاب کافی تحقیق اور غور و خوض کے بعد کیا گیا ہے۔ اس جگہ تین میل تک بلند پہاڑوں کا سلسلہ ہے اور سطح کی بہت سی تہیں ایسی ہیں، جن سے سیارے پر ماضی میں پانی کی موجودگی کا پتا چل سکتا ہے۔

Russland Raumfahrt Mars 500 Experiment in Moskau Landung

امریکی سائنسدان 2030ء تک مریخ پر انسانی مشن بھیجنے کی امید کر رہے ہیں

کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں مریخ سائنس لیبارٹری منصوبےکے سائنسدان جون گروٹزنگر نے کہا، ’’ہم بنیادی طور پر مریخ کے ماحولیاتی ارتقاء کی تاریخ کا مطالعہ کر رہے ہیں۔‘‘

سائنسدانوں کو امید ہے کہ اگر مریخ پر پانی کی موجودگی کے آثار ملے تو وہاں کسی نہ کسی شکل میں زندگی موجود ہو سکتی ہے۔

اس منصوبے کی مدت ہماری زمین کے دو سالوں یا مریخ کے ایک پورے سال کے برابر ہے مگر سائنسدانوں کو امید ہے کہ ماضی کی خلائی گاڑیوں کی طرح Curiosity بھی طویل عرصے تک اپنا کام سر انجام دے سکتی ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM