1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مرکزی پاک افغان سرحدی گزرگاہیں کھل گئیں، چند ابھی تک بند

ایک ماہ سے زائد عرصے کی بندش کے بعد پاکستان اور افغانستان کے مابین آمد و رفت کے لیے تین بڑی سرحدی گزر گاہیں کھول دی گئی ہیں۔ تاہم چند چھوٹی سرحدی گزر گاہیں تاحال بند ہیں، جنہیں کھولنے سے پہلے تحریری ہدایات کا انتظار ہے۔

معمول کی آمد و رفت کے لیے مشترکہ سرحد کے کھلتے ہی نیٹو سپلائی اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ٹرکوں کے علاوہ مقامی تجارتی سامان لے کر جانے والے بہت سے ٹرک بھی سرحد عبور کر گئے۔ طورخم کے مقام پر پاک افغان سرحد اب ہر روز صبح سات بجے سے لے کر شام پانج بجے تک کھلی رہے گی۔ تاہم شمالی وزیرستان میں غلام خان نامی سرحدی گزر گاہ، جنوبی وزیرستان میں انگور اڈہ اور کرم ایجنسی میں واقع چار سرحدی گزرگاہیں ابھی تک بند ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق انہیں ابھی تک ان گزرگاہوں کو کھول دینے سے متعلق تحریری ہدایات موصول نہیں ہوئیں۔

پاک افغان سرحد کی بندش کی وجہ سے دونوں جانب ہزارہا مرد، خواتین اور بچے پھنس کر رہ گئے تھے جبکہ دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا رہا تھا۔ اسی دوران پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سات اور آٹھ مارچ کو پیدل جانے والوں کے لیے یہ سرحد عبوری طور پر دو دنوں کے لیے کھول دی تھی۔

اس بندش کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین سماجی اور ثقافتی تعلقات بھی متاثر ہوئے تھے۔ پاک افغان سرحد پر موجود ابراہیم شنواری سے جب ڈوئچے ویلے نے اس بارے میں گفتگو کی، تو ان کا کہنا تھا، ’’سرحد کھلنے سے دونوں ممالک کے عوام خوش ہیں، سب سے زیادہ پاکستانی تاجر اس فیصلے پر خوش ہیں۔ فوراﹰ ہی سینکڑوں کی تعداد میں لوگ افغانستان جانے کے لیے یہاں پہنچ گئے تھے۔ بہت بڑی تعداد میں لوگ افغانستان سے پاکستان میں بھی داخل ہو رہے ہیں۔‘‘

ابراہیم شنواری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ حکام پاکستان میں داخل ہونے والوں کی کڑی چیکنگ کر رہے ہیں اور افغان باشندوں کو ان کے ویزے اور پاسپورٹ چیک کرنے کے بعد ہی پاکستان میں داخلے کی اجازت دی جاتی ہے۔ شنواری نے مزید کہا کہ سرحد کی طویل بندش کے باعث تاجروں کو کروڑہا روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔‘‘

افغان سرحد کھول دی جائے، نواز شریف

طورخم اور چمن کی سرحدی گزرگاہیں کھولی جا رہی ہیں

طورخم  پر پاسپورٹ کی شرط، تجارت متاثر نہیں ہو گی، محمود شاہ

حکام کے مطابق مطلوبہ دستاویزات نہ رکھنے والوں کو سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سرحد کھلنے کے بعد پہلے روز سو سے زائد ٹرک اشیا ئے خورد و نوش اور تعمیراتی سامان لے کر افغانستان گئے۔

گزشتہ ماہ پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر کے بعد، جس میں ایک سو تیس سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے، پاکستان نے سولہ فروری کو افغانستان کے ساتھ اپنی تمام سرحدیں بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور ساتھ ہی  افغانستان سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔

دونوں ممالک کے مابین سرحد کی طویل بندش کی وجہ سے اطراف کے تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ جب اس سلسلے میں پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ڈائریکٹر ضیاالحق سرحدی سے ڈوئچے ویلے نے بات کی، تو ان کا کہنا تھا، ’’بندش کے اس فیصلے کی وجہ سے پاکستانی تاجروں کو تین ارب روپے سے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑا۔ گزشتہ برس بھی کئی بار سرحد بند کی گئی تھی، جس کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو بھی نق‍صان اٹھانا پڑا تھا۔ بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے دونوں ہمسایہ ملکوں کو مل بیٹھنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی اور افغان شہری اس طرح کے فیصلوں کے منفی اثرات سے بچ سکیں۔‘‘

پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر تک پہنچانے کا اعلان کیا ہے تاہم موجودہ صورتحال کی وجہ سے افغان تاجر بیرون ملک تجارت کے لیے دیگر ہمسایہ ممالک سے بھی رابطے کر رہے ہیں۔ اسی کشیدگی کی وجہ سے افغانستان کے راستے پاکستان کی وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات