1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’مرچیں کھانے کا شوق تو اگائیے بھی‘

انڈونیشیا میں اشیائے خوردونوش میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل سمجھی جانے والی مرچ کی قیمتیوں میں مسلسل اضافے نے حکومت کو اس جانب خصوصی اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔

default

انڈونیشیا میں گزشتہ چند ماہ میں مرچ کی چند اقسام کی قیمت ایک لاکھ انڈونیشی روپے (گیارہ ڈالر) فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ انڈونیشیا میں مرچ کا استعمال ہر طرح کی طبقاتی تقسیم سے ماورا سمجھا جاتا ہے اور ہر معاشرتی و معاشی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کھانوں میں مرچ کا خاطر خواہ استعمال کرتے ہیں۔ وہاں کی ایک سرکاری افسر دیوی رورو کے مطابق، ’سمبل کے بغیر ہر کھانا ادھورا لگتا ہے۔‘

Rote Chili-Schoten

انڈونیشیا میں مرچ ہر کھانے کا بنیادی جز تصور کی جاتی ہے

سمبل مرچوں کی ایک ایسی چٹنی ہے، جو انڈونیشیا میں انتہائی مقبول ہے اور وہاں تقریباﹰ ہر دسترخوان کا حصہ ہوتی ہے۔

مرچوں کے اسی بحران کے باعث انڈونیشیا کے صدرسوسیلو بامبانگ یودویونو کو یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑا کہ عوام اپنے گھروں میں خود مرچیں اگائیں تاکہ انہیں مرچیں خریدنے کی ضرورت کم سے کم پڑے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ان تخلیقی اقدامات سے غذائی قلت سے بچا جا سکتا ہے۔

انڈونیشیا کی وزیر تجارت ماری پانگیستو نے بھی صدر یودویونو کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے گھر کے باغیچے میں مرچوں کے 200 پودے اگائے ہیں۔

دریں اثناء وزارت زراعت کی طرف سے مرچوں کے مفت بیجوں کی تقسیم کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ وزارت زراعت کی اس انوکھی مہم کو ’’مرچ اگاؤ تحریک‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

Indien Roter Chili Gewürz Flash-Galerie

حکومت نے عوام سے مرچیں اگانے کی اپیل کی ہے

وزیر زراعت سوسوونو کے مطابق اگرچہ یہ ایک قلیل مدتی حل ہے، تاہم ان کی وزارت اب ملک کے متعدد صوبوں میں اس تحریک کا آغاز کر رہی ہے۔

دوسری جانب عوام نے حکومت کی اس تحریک اور اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اشیائے صرف کی دستیابی اور قیمتوں میں استحکام کو حکومت کی ذمہ داری قرار دیا ہے۔

ایک دفتر میں کام کرنے والے ملازم اردی مولانا کے مطابق حکومت مرچوں کی قیمتوں میں استحکام کے لئے موثر اقدامات اٹھانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ مولانا کے مطابق اگر کل ملک میں چاول کی قلت ہو گئی، تو کیا حکومت عوام کو گھروں میں چاول اگانے کا مشورہ بھی دے گی؟

واضح رہے کہ انڈونیشیا کے محکمہ شماریات نے رواں ہفتے جاری کردہ ایک جائزے میں کہا ہے کہ ملک میں افراط زر کی شرح چھ اعشاریہ نو چھ فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ حکومت نے اس شرح کو چار سے چھ فیصد کے درمیان رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : ندیم گِل

DW.COM