’مرنے کے بعد بھی بچے اپنی ماؤں سے لپٹے ہوئے تھے‘ | مہاجرین کا بحران | DW | 21.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’مرنے کے بعد بھی بچے اپنی ماؤں سے لپٹے ہوئے تھے‘

اطالوی فائر فائٹرز کی ایک ٹیم نے حال ہی میں تارکین وطن کی گزشتہ برس بحیرہ روم میں ڈوب جانے والی ایک کشتی میں پھنسی لاشوں کو نکالا۔ اس ٹیم کے ایک رکن نے اس کارروائی کے دوران کیسے ہولناک مناظر دیکھے؟

’’انہیں ان کے آخری سفر کے لیے کشتی میں یوں بھرا گیا تھا، جیسے (نازی دور میں) آؤشوِٹس کے اذیتی کیمپ کو جانے والی ریل گاڑیوں میں یہودی قیدیوں کو سوار کرایا گیا تھا۔‘‘ یہ کہنا تھا لُوکا کاری کاری کا جو بحیرہ روم میں ڈوبنے والی مہاجرین اور تارکین وطن کی اس کشتی سے لاشیں نکالنے والی اطالوی ٹیم میں شامل تھے۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

جرمنی میں مہاجرین سے متعلق نئے قوانین

کاری اطالوی فائر فائٹرز کے ترجمان بھی ہیں اور وہ ابھی تک زیر آب پھنسی انسانی لاشوں کے اندوہناک مناظر بھول نہیں پائے۔ کاری نے ایک اطالوی ہفت روزہ میگزین میں آج جمعرات اکیس جولائی کو شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے، ’’اس کشتی پر ہر ایک مربع میٹر جگہ پر پانچ پانچ تارکین وطن موجود تھے۔‘‘

گزشتہ برس اپریل کے مہینے میں اس کشتی کے سمندر میں ڈوب جانے سے قریب 700 تارکین وطن ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ تعداد اب تک کسی ایک حادثے کے دوران ہلاک ہونے والے مہاجرین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس کشتی پر سوار صرف 28 پناہ گزینوں کو زندہ بچایا جا سکا تھا۔

یہ ہولناک واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب تارکین وطن سے لدی یہ کشتی ایک پرتگالی بحری جہاز سے ٹکرا گئی تھی۔ یہ پرتگالی بحری جہاز اسی کشتی کو ریسکیو کرنے کے لیے بحیرہ روم کے پانیوں میں سفر پر تھا۔ رات کی تاریکی میں ایک بحری جہاز سے ٹکرانے کے بعد مہاجرین کی اس کشتی پر افراتفری پھیل گئی تھی اور سبھی تارکین وطن کشتی کے ایک حصے میں جمع ہونا شروع ہو گئے تھے، جس کے باعث وہ الٹ گئی تھی۔

کاری نے لکھا ہے کہ ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والی لکڑی کی اس کشتی کے ہر حصے میں مہاجرین کی لاشیں موجود تھیں۔ ان لاشوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ زیادہ تر مہاجرین نے اپنی جانیں بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہو گی۔

امدادی کارکنوں کی ٹیم میں شامل ایک اور کارکن پاؤلو کواٹروپانی کا کہنا تھا، ’’ڈوبتی کشتی پر سوار اور اپنی جانیں بچانے کی ہر ممکن کوششیں کرنے والے ان انسانوں کی جدوجہد کی تصویر ہمارے ذہنوں پر اس طرح نقش ہو چکی ہے کہ اسے بھولنا ناممکن ہے۔‘‘

کاری کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسے بچے بھی دیکھے جنہیں ماؤں نے آخر دم تک اپنی بانہوں میں لیے رکھا تھا اور ’مرنے کے بعد بھی وہ بچے اپنی ماؤں کے جسموں سے لپٹے ہوئے تھے‘۔

اطالوی وزیر اعظم ماتیو رینزی نے اعلان کیا ہے اس کشتی سے نکالی جانے والی تمام لاشوں کو باوقار طریقے سے دفن کیا جائے گا تاکہ مہاجرین کے بحران کے دوران رونما ہونے والے انسانی المیوں کو سامنے لایا جا سکے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ 2014ء سے لے کر اب تک دس ہزار سے زائد تارکین یورپ کی جانب ہجرت کے سفر کے دوران بحیرہ روم اور بحیرہ ایجیئن کے پانیوں میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔

ہزاروں پناہ گزین اپنے وطنوں کی جانب لوٹ گئے

ہمیں واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

ویڈیو دیکھیے 01:11

بحیرہ روم میں مہاجرین کی کشتیاں ڈوبنے کے خوفناک مناظر

DW.COM

Audios and videos on the topic