1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مرسی کی کم از کم ایک سزا منسوخ، دوبارہ مقدمہ سنا جائے

مصر کی اعلیٰ عدالت نے معزول کر دیے گئے صدر محمد مرسی کو دی گئی مختلف سزاؤں میں سے ایک کو منسوخ کر دیا ہے۔ عدالتی فیصلے میں ماتحت عدالت کو دوبارہ اس مقدمہ کی سماعت کی ہدایت کی گئی ہے۔

مصر کی کالعدم سیاسی و مذہبی تحریک اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے معزول صدر محمد مرسی کو دی گئی ایک سزا اعلیٰ عدالت نے منسوخ کر دی ہے۔ اعلیٰ عدالت نے اِس مقدمے کی دوبارہ شنوائی کا حکم بھی دیا ہے۔ جس سزا کو منسوخ کیا گیا ہے، اس کا تعلق مرسی کا فلسطینی انتہا پسند گروپ حماس کے ساتھ مل کر جاسوسی کا ارتکاب ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران مصری اعلیٰ عدالت نے ایک دوسرے مقدمے میں محمد مرسی کو سنائی گئی موت کی سزا کو بھی منسوخ کر دیا تھا۔ اس طرح اب سابق صدر موت کی سزا کے منتظر نہیں رہے۔ دوسری جانب ابھی انہیں چند اور مقدمات کا بھی سامنا ہے۔

مصر  میں ماتحت عدالتوں سے دی گئی سزاؤں کے حتمی تعین کی اعلیٰ عدالت نے محمد مرسی سمیت پندرہ دوسرے افراد کی سزاؤں کو منسوخ کرتے ہوئے معاملے کو دوبارہ ماتحت عدالت واپس بھیج دیا ہے۔ اسی مقدمے میں کالعدم اخوان المسلمون کے رہنما محمد بدیع کو بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

Ägypten Kairo Richter bei Urteil gegen Mohamed Mursi (picture-alliance/ZUMA Press)

معزول مصری صدر مرسی کو جج محمد سیرین فہمی نے عمر قید کی سزا سنائی تھی

 عمر قید پانے والے پندرہ افراد میں اخوان المسلمون کے کئی اہم اور سینیئر لیڈر شامل تھے۔ ان میں خیرات الشاطر، محمد البلتاگی بھی شامل ہیں۔ ماتحت عدالت نے مرسی کے ایک مشیر احمد عبدلاتی کو موت کی سزا سنائی تھی اور اِس سزا کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

سن 2011 میں سابق ڈکٹیٹر صدر حسنی مبارک کے خلاف پرزور عوامی تحریک کے بعد ہونے والے الیکشن میں جمہوری طور پر منتخب ہونے والے پہلے مصری صدر محمد مرسی تھے۔ ان کو سن 2013 میں فوج نے زوردار عوامی تحریک کے نتیجے میں منصب صدارت سے فارغ کر دیا تھا۔ مصری فوج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں وہ الیکشن کے ذریعے ملکی صدر بن چکے ہیں اور مرسی جیل میں ہیں۔

سن 2013 میں مرسی کی معزولی کے بعد سکیورٹی فورسز نے کالعدم اخوان المسلمون کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مرسی کے سینکڑوں حامی احتجاجی مظاہروں میں پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں مارے گئے۔ اس وقت بھی ہزاروں افراد جیلوں میں بند ہیں اور اپنے مقدمات کے شروع ہونے کے منتظر ہیں۔ کچھ مقدمات میں کئی افراد کو موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔