1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مرد حضرات امور خانہ داری سیکھیں: بھارتی وزیر خارجہ کا مشورہ

بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے مشورہ دیا ہے کہ اگر مرد ہوم اکنامکس پڑھنے اور امور خانہ داری سیکھنے میں دلچسپی لیں تو ان کی حوصلہ افزائی کی جانا چاہیے۔ ان کے بقول اس سے سماج میں صنفی تعصب ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

سشما سوراج اُس گیارہ رکنی وزارتی کمیٹی کی سربراہ بھی ہیں، جو بھارت میں خواتین کے لیے قومی پالیسی پر نظرثانی کر رہی ہے۔ بھارت میں آج کل سن 2001 میں منظورکردہ خواتین پالیسی نافذ ہے اور نریندر مودی حکومت اس میں ترمیم کرنا چاہتی ہے۔ نئی پالیسی میں خواتین کی صحت، تعلیم اور روزگار جیسے مسائل اور چیلنجز پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

ایک سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ کمیٹی کی گزشتہ دنوں ہوئی میٹنگ میں سشما سوراج نے مشورہ دیا کہ ’’کالجوں میں ہوم سائنس کا مضمون پڑھنے کے لیے مردوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ انہیں امور خانہ داری کے فن میں بھی مہارت پیدا کرنے کی ترغیب دی جانا چاہیے، اس سے خواتین کے حوالے سے روایتی سوچ کو بدلنے میں مدد ملے گی اور مرد عورت کی زندگی کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہو سکیں گے کیوں کہ خواتین پر کام کا بوجھ کہیں زیادہ ہوتا ہے۔‘‘بھارتی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا عورتوں کو فزیکل ایجوکیشن بالخصوص مارشل آرٹ کی طرف راغب کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اس سے سماج میں صنفی تعصب کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔



سولہ سال بعد نظر ثانی کے مرحلے سے گزرنے والی اس قومی پالیسی کے سلسلے میں متعدد دلچسپ مشورے بھی سامنے آئے ہیں۔کمیٹی کے ایک رکن وزیر قانون روی شنکر پرساد کا مشورہ تھا کہ غیر سنگین جرائم میں قید اگر کوئی خاتون اپنی سزا کی ایک تہائی مدت پوری کر کے تو اسے رہا کر دیا جانا چاہیے۔ ایک اور وزیر کا مشورہ ہے کہ خواتین کو تعلیمی اداروں میں خصوصی ریزرویشن دی جانی چاہیے اس سے انہیں زیادہ بہتر مواقع مل سکیں گے۔

مجوزہ قومی پالیسی میں سیاست، انتظامیہ اور سول سروسز میں خواتین کی شراکت میں اضافے کا منصوبہ بھی پیش کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ یہ پہلا موقع ہے جب تنہا زندگی گزارنے والی اور بیوہ خواتین کے مسائل کو بھی قومی خواتین پالیسی کا حصہ بنایا جائے گا۔

مردم شماری رپورٹ کے مطابق بھارت میں اس وقت 74.1 ملین خواتین تنہا زندگی گزار رہی ہیں۔ ان میں غیر شادی شدہ، طلاق یافتہ، شوہر سے الگ رہنے والی اور بیوہ خواتین شامل ہیں۔ یہ ملک کی مجموعی آبادی کا 12 فیصد ہیں۔ ایسی خواتین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سن 2001 سے سن 2011 کے درمیان ان کی تعداد میں 39 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں جو سماجی تبدیلیاں ہورہی ہیں ان کا خواتین پر بھی خاصا اثرپڑ رہا ہے۔ اب شادیاں کافی تاخیر سے ہورہی ہیں اور بہت تیزی سے ٹوٹ رہی ہیں اور اس وقت ملک کی تاریخ میں تنہا رہنے والی خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔



خواتین کے امور کی ماہر اور سماجی تجزیہ نگار نمیتا بھنڈارے کا کہنا ہے کہ تنہا رہنے والی خواتین کی حالت انتہائی قابل رحم ہے،’’ گاؤں میں بیوہ یا تنہا رہنے والی خواتین پر ’ڈائن‘ کا الزام لگا کر بعض اوقات قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف شہروں میں غیر شادی شدہ یا تنہا رہنے والی خواتین کے کردار پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں اور انہیں سماج میں طعنے سننے پڑتے ہیں۔‘‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گوکہ بھارت دنیا کی تیز رفتار ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہے تاہم افرادی قوت میں خواتین کی شراکت اب بھی بہت کم ہے۔ آکسفورڈ اکنامکس رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں پانچ خواتین میں سے صرف ایک خاتون ملازمت کرتی ہے جب کہ خوشحال گھرانوں کی خواتین بالعموم ملازمت سے گریز کرتی ہیں۔