1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

مردوں کی طرح محنتی نیپالی ملاح خواتین صنفی امتیاز کا شکار

نیپال کی مشہور پھیوا جھیل میں سیاحوں کے لیے کشتی رانی کرنے والی پیشہ ور ملاح خواتین مردوں کی طرح محنت کے باوجود صنفی امتیاز کا شکار ہیں۔ ان خواتین کو یقین نہیں رہا کہ وہ آئندہ بھی محنت کر کے اپنی روزی روٹی کما سکیں گی۔

نیوز ایجنسی ٹامسن روئٹرز فاؤنڈیشن نے اس موضوع پر نیپال کے شہر پوکھرا سے بدھ پندرہ فروری کے روز اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں لکھا ہے کہ مغربی نیپال میں پھیوا جھیل سیاحوں کے لیے انتہائی پرکشش ہے، جس کی سیر کی خاطر وہاں آنے والوں کے لیے اس جھیل میں لکڑی کی بنی سینکڑوں رنگا رنگ کشتیاں تیرتی نظر آتی ہیں، جنہیں مقامی ملاح چلاتے ہیں۔

اب ’دیوی‘ ایم بی اے کرنا چاہتی ہے

نیپال میں کم عمری کی شادیوں کا سلسلہ جاری

اپنی گزر بسر کے لیے جو پیشہ ور مقامی ملاح اس جھیل میں مہمانوں کو اپنی کشتیوں میں سیر کراتے ہیں، ان میں مردوں کی تعداد قریب ڈھائی سو ہے اور عورتوں کی تعداد صرف تیس کے قریب۔ نیپالی دارالحکومت کھٹمنڈو سے قریب 90 میل یا 150 کلومیٹر شمال مغرب کی طرف پوکھرا ایک ایسا شہر ہے، جہاں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح جاتے ہیں۔

پھیوا جھیل میں کشتی رانی کرنے والی خواتین میں 60 سالہ باتُولی بُھوجل بھی شامل ہیں، جو جب سیاحوں سے بھری اپنی کشتی واپس جھیل کے کنارے پر لاتی ہیں، تو کشتی سے ایک قدم باہر نکال کر خود نوجوانوں اور بچوں کی کشتی سے اترنے میں مدد بھی کرتی ہیں۔

UNESCO Welterbe Nepal Indien Khangchendzonga Nationalpark (FEWMD)

انتہائی بلندی پر واقع ایک نیپالی جھیل

لیکن اب باتُولی بُھوجل کو یہ یقین نہیں رہا کہ وہ مستقبل میں بھی مردوں کی طرح سخت محنت کرتے ہوئے پیشہ ور ملاح کے طور پر اپنے اہل خانہ کے لیے روٹی روزی کا بندوبست کر سکیں گی، جیسے وہ گزشتہ کئی عشروں سے کرتی آئی ہیں۔

باتُولی نے سیاحوں کے ایک گروپ کو جھیل کی سیر کرانے کے بعد اپنی کشتی دوبارہ کنارے پر لا کر خشکی کی طرف کھینچتے ہوئے بتایا، ’’اکثر میرا پورا جسم درد کرتا ہے۔ پھر مجھے ایک دو دن کا وقفہ کرنا پڑتا ہے۔ میرے پاس اگر آمدنی کا کوئی بھی دوسرا ذریعہ ہو، تو میں یہ کام کبھی نہ کروں۔‘‘

نیپال: گزشتہ برس کے زلزلوں میں خواتین سب سے زیادہ متاثر

ٹامسن روئٹرز فاؤنڈیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ باتُولی بُھوجل جیسی نیپالی خواتین کے لیے پھیوا جھیل میں پیشہ ور ملاحوں کے طور پر کشتی رانی کرنا انہیں ایک ایسے قدامت پسند ہندو اکثریتی معاشرے میں کافی حد تک خود مختار بنا دیتا ہے، جہاں خواتین کی اکثریت کی عمر اپنے سسرال کی خدمت کرتے گزر جاتی ہے اور انہیں مردوں کی طرح تعلیم، صحت اور ملازمتوں کے مساوی مواقع سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔

NO FLASH Boot in Indien (AP)

نیپال کے زیادہ تر دیہی علاقوں میں والدین یہ سوچتے ہیں کہ لڑکیوں کو تعلیم دلوانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ ان کی زندگی بالعموم صرف دو گھروں میں ہی گزر جاتی ہے، پہلے ان کے والدین کے گھر اور شادی کے بعد سسرال میں۔

اقوام متحدہ کے بچوں کے امدادی ادارے یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی بلند ترین پہاڑی چوٹیوں کے لیے مشہور ہمالیہ کی اس ریاست میں اگرچہ بچوں کے تعلیم کے لیے اسکول جانے سے متعلق قومی اعداد و شمار ماضی کے مقابلے میں کچھ بہتر ہوئے ہیں تاہم ابھی بھی صرف 74 فیصد لڑکے ہائی اسکول تک تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ لڑکیوں میں تو یہ شرح ابھی تک صرف 66 فیصد بنتی ہے۔

بیوگی سے بچنے کے لیے دو نیپالی بہنوں کی ہندو دیوتا سے شادی

ایورسٹ کو سات بار سر کرنے والی دنیا کی پہلی خاتون ایک نیپالی

باتُولی ہی کی طرح کی ایک مثال لکشمی کی بھی ہے، جنہوں نے پوری زندگی کبھی کسی کلاس روم کی شکل تک نہیں دیکھی۔ لکشمی کی شادی بھی پندرہ برس کی عمر میں ہو گئی تھی، جیسا کہ 40 فیصد نیپالی لڑکیوں کے ساتھ ہوتا ہے کہ 18 برس کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی ان کی شادیاں کر دی جاتی ہیں حالانکہ قانونی طور پر اس جنوبی ایشیائی ملک میں شادی کی کم از کم عمر 20 برس ہے۔

اٹھارہ برس کی عمر میں جب لکشمی کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو ان کے نیپالی شوہر نے انہیں چھوڑ دیا۔ پھر لکشمی کے والدین نے لکشمی کا بیٹا اپنے پاس رکھ لیا اور اپنی بیٹی سے ہر طرح کا تعلق ختم کر دیا۔ لکشمی نے بعد میں دوسری شادی کی، وہ بھی ناکام رہی۔ اب یہ نیپالی ملاح خاتون اکیلے ہی اپنی 10 سالہ بیٹی کی پرورش کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ’’میرا دل ٹوٹ چکا ہے۔ اب مجھے کوئی خوشی یا غم محسوس ہی نہی ہوتا۔‘‘

نیپال کی ان ملاح خواتین کو نہ صرف اپنے مرد ساتھیوں کی طرف سے حوصلہ شکنی اور صنفی امتیاز کا سامنا رہتا ہے بلکہ کوئی سیاح اگر ایک گھنٹے تک کشتی کی سیر کرنے کے 500 نیپالی روپے ادا کرتا ہے تو ان میں سے متعلقہ ملاح کو صرف 100 روپے ہی ملتے ہیں۔ اس طرح یہ خواتین اوسطاﹰ روزانہ 500 روپے (ساڑھے چار امریکی ڈالر کے برابر) تک بھی کما لیں تو اس لیے خوش رہتی ہیں کہ اس دن کی گزر بسر کا بندوبست تو ہو گیا۔

لیکن کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان خواتین کو اپنی کشتیوں میں سیر کرانے کے لیے کوئی سیاح نہیں ملتا اور وہ ایک لمبی قطار میں لگی اپنی باری اور مہمانوں کے ہجوم کا انتظار ہی کرتی رہتی ہیں۔

DW.COM