1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مردان میں گرلز اسکول پر بم حملہ، پولیس اہلکار ہلاک

شمال مغربی پاکستان میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر منگل کو کیے گئے ایک بم حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔

default

پاکستانی صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ بم حملہ مردان شہر کے مضافات میں کیا گیا۔ اس حملے میں اسکول کی ایک دیوار تباہ ہو گئی اور عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔

صوبہ خیبر پختونخوا افغانستان کے ساتھ پاکستانی سرحد پر واقع ہے۔ مردان کے مضافات میں جس تعلیمی ادارے کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا، وہ لڑکیوں کا ایک مڈل اسکول ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سرکاری انتظام میں کام کرنے والے اس اسکول پر شدت پسندوں نے یہ حملہ ایک ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے کیا۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس حملے سے پہلے پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ اس اسکول کی بیرونی دیوار کے ساتھ ایک مشکوک بیگ پڑا ہوا تھا۔ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب پولیس اہلکاروں کی ایک ٹیم اس بیگ سے متعلق چھان بین کے لیے موقع پر پہنچی۔

BIldergalerie Flüchtlingskrise im Swattal Talibankämpfer

مردان پولیس کے سربراہ ذیشان حیدر نے فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی کو فون پر اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کے وقت اسکول بند تھا اور زخمیوں میں تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمی ہونے والے باقی پانچ افراد عام شہری بتائے گئے ہیں۔

ذیشان حیدر کے مطابق عسکریت پسند صوبے میں لڑکیوں کے بہت سے اسکول تباہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے کا ہدف بھی اس اسکول کی عمارت تھی جسے معمولی نقصان پہنچا لیکن بیرونی دیوار تباہ ہو گئی۔

شمال مغربی پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا اور فاٹا کہلانے والے قبائلی علاقوں میں طالبان عسکریت پسند حالیہ برسوں میں سینکڑوں اسکول تباہ کر چکے ہیں۔ ان میں سے اکثریت لڑکیوں کے اسکولوں کی تھی۔

اسی دوران پشاور کے نواح میں آج منگل کو طالبان عسکریت پسندوں نے دو افراد کو گولی مار دی۔ پولیس کے مطابق مرنے والے دونوں افراد طالبان کے خلاف جنگ کرنے والی ایک ملیشیا کے رکن تھے۔ اس ملیشیا کے سربراہ دلاور خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے دو ساتھیوں کو طالبان نے گولی مار دینے کے بعد ان کی لاشیں شہر کے مضافات میں متنی کے علاقے میں پھینک دیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM