1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مردان میں فوجی بھرتی کے مرکز پر حملہ، 27 ہلاک

پاکستان میں صوبہ خیبرپختونخواہ کے شہر مردان میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں متعدد سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ دھماکہ فوجی بھرتی کے مرکز میں ہوا ہے۔

default

پولیس عہدے دار لیاقت علی نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ’فوجی بھرتی کے ایک مرکز میں دھماکہ ہوا ہے۔ ہم مزید معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔‘

قبل ازیں لیاقت علی نے کہا کہ اس دھماکے میں خودکش بمبار ملوث ہو سکتا ہے۔ تاہم بعدازاں خبررساں ادارے اے ایف پی نے اسے خودکش حملہ قرار دیا اور 20 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایک اسکول کے قریب ہوا، جو فوجی علاقے میں واقع ہے۔ خیال رہے کہ دہشت گرد گروہ القاعدہ سے وابستہ پاکستانی طالبان ملک کے مختلف علاقوں میں خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔ عسکری اہداف پر بھی حملے ہوتے رہے ہیں، تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے ایسے حملوں میں تعطل رہا ہے، جو مردان کے دھماکے سے ٹوٹ گیا ہے۔

طالبان کا ایک اہم ہدف مساجد اور مزار بھی ہیں۔ وہ ان حملوں کا جواز افغانستان سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہونے والے ڈرون حملوں کو بھی قرار دیتے ہیں۔ یہ حملے مبینہ طور پر امریکی طیارے کرتے ہیں جبکہ اسلام آباد حکومت بھی ان پر تحفظات رکھتی ہے۔

دوسری جانب امریکہ ان حملوں کی باقاعدہ تصدیق یا تردید نہیں کرتا۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ اس خطے میں بغیر پائلٹ والے طیارے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے زیر استعمال ہی ہیں۔

NO FLASH Anschlag Quetta Pakistan

دہشت گرد پاکستانی شہروں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں

گزشتہ برس بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی جانب سے یورپ کے مختلف شہروں میں ممبئی طرز کے حملوں کی خبروں پر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا تھا۔ امریکی حکومت ان حملوں کو مؤثر مانتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان کے نتیجے میں طالبان کی اعلیٰ قیادت پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔

امریکہ پاکستان کے قبائلی علاقے کو زمین پر سب سے خطرناک خطہ قرار دیتا ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں اتحادی افواج اور مغربی ملکوں میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی وہیں سے ہوتی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM