1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مردان میں خود کُش حملہ، 31 ہلاک

صوبہ خیبر پختونخوا کے دوسرے بڑے شہر مردان میں عسکریت پسندوں نے انتہائی سخت سیکورٹی زون میں واقع فوجی مرکز کو نشانہ بنایا ہے۔ حکام کے مطابق ایک سترہ سالہ خودکش حملہ آور سکول یونیفارم میں ملبوس تھا۔

default

اس دھماکے میں اب تک 31 اہلکار ہلاک جبکہ 40 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو طبی امداد کیلئے ملٹری ہستالوں میں پہنچادیا ہے۔ یہ فوجی تربیتی مرکز انتہائی سخت سیکورٹی زون میں واقع ہے تاہم اس علاقے میں واقع تعلیمی اداروں کی وجہ سے صبح کے وقت سیکورٹی میں نرمی کی جاتی ہے، جس سے فائدہ اٹھاتے ہوے سکول یونیفارم میں ملبوس خودکش حملہ آور اس علاقے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا۔

Anschlag auf Trainingszentrum in Pakistan

اس دھماکے میں اب تک 31 اہلکار ہلاک جبکہ 40 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس عبداللہ خان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے میں 31 جوان ہلاک جبکہ 40 سے زیادہ زخمی ہوے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حملہ آور کے جسم کے اعضاء ملے ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکے میں آٹھ سے نو کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے تاہم خود کش جیکٹ میں ایک ہزار سے زیادہ بال بیرنگ استعمال کیے گئے، جس کی وجہ سے جانی نقصان زیادہ ہوا جبکہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ، ’’دہشت گردی افغانستان سے آئی ہے اور یہ گزشتہ 30 سال سے ہے۔ سب سے پہلے امریکہ، افغانستان اور نیٹو ممالک افغانستان میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کریں اور اسی طرح پاکستانی حکومت، سکیورٹی فورسز، فوج اور عوام مل کر دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں۔ اگر افغانستان پاکستان اور پاکستان افغانستان پر الزام عائد کرتے رہے اور یہ دونوں ممالک امریکہ پر الزامات عائد کرتے رہے تو اس سے عدم اعتماد کی فضاء پیدا ہوگی، جس کا فائدہ دہشت گردوں کو ملے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک مدت کے بعد دہشت گردوں کو ایسا موقع ملا ہے۔ اسے سکیورٹی اقدامات کا فقدان اس لیے نہیں کہوں گا کہ خودکش حملہ آور طالب علم کی شکل میں یہاں آیا تھا اور ہر طالب علم کی تلاشی لینا ممکن نہیں ہے۔‘‘

ان کا کہنا ہے کہ دہشت گرد ہر بار اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہیں اور اب ہم بھی اسی طریقے سے اپنی پالیساں تیار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی موجودہ لہر مہمند ایجنسی میں جاری آپریشن کا ردعمل ہے، جہاں نئی حکمت عملی کے تحت آپریشن کیا جارہا ہے۔

دہشت گرد گذشتہ کئی دنوں سے تسلسل کے ساتھ صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس سے قبل پشاور، چارسدہ، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، ہنگو اور کئی دیگر علاقوں میں خود کش حملے اور بم دہماکے کیے گئے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مردان میں واقع پنجات رجمنٹ سنٹر پر 20 جولائی 2010 کوبھی پانچ دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا۔

رپورٹ: فریداللہ خان، پشاور

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM