1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مرجاہ میں افغان پرچم لہرا دیا گیا

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے افغانستان کے صوبہ ہلمند کے وسطی علاقے مرجاہ کا انتطام مقامی حکام کے حوالے کر دیا ہے۔ اس حوالے سے مرجاہ میں جمعرات کو افغانستان کا پرچم لہرایا گیا۔

default

افغان حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ہلمند میں طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے مرجاہ کا انتظام سنبھال لیا گیا ہے۔

General Stanley Mc Chrystal

جنرل اسٹینلے میک کرسٹل

اس علاقے میں ہلمند کے گورنر محمد گلاب منگل نے قومی پرچم لہرایا۔ اس موقع پر مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ امریکی، برطانوی اور افغان افواج کے سینئر کمانڈر بھی موجود تھے۔ امریکی میرینز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل لیری نکولسن نے اسے ایک ’تاریخی دن‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا، مرجاہ کے عوام کو یقین ہے کہ حکومتی کنٹرول میں وہ ایک نئے دور کا آغاز کریں گے۔

بعدازاں ہلمند حکومت کے ترجمان داؤد احمد نے کہا کہ صوبائی حکومت نے مرجاہ میں ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ اس کے باوجود نیٹو نے فتح کا اعلان نہیں کیا۔ یہ خبریں بھی ہیں کہ طالبان ابھی تک علاقے میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ طالبان کے ترجمان یوسف احمدی نے خبررساں ادارے AFP سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے جنگجو مرجاہ میں موجود ہیں اور لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی فوج کے اعلیٰ عہدے داروں کا بھی یہی کہنا ہے کہ طالبان گھات لگا کر اتحادی فوجیوں کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں، جو ایک نئے خطرے کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔

افغانستان میں تعینات نیٹو کے سویلین نمائندے مارک سیڈول کا کہنا ہے کہ ’آپریشن مشترک ‘کو سست رکھا گیا ہے، جس کا مقصد شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ افغانستان میں اتحادی افواج کے امریکی کمانڈر جنرل اسٹینلے میک کرسٹل بھی اپنے ایک حالیہ بیان میں کہہ چکے ہیں کہ نیٹو کے مشن کا مرکز افغان عوام ہیں اور انہیں ہر صورت تحفظ فراہم کیا جائےگا۔

دوسری جانب فلاحی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مرجاہ اور نادعلی کے عوام مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ علاقے میں اشیائے ضرورت کی قلت پیدا ہو گئی ہے جبکہ طالبان کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے باعث نقل و حرکت بھی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ اُدھر نیٹو کا کہنا ہے کہ مرجاہ میں دکانیں اور کلینک کھل چکے ہیں اور اشیائے ضرورت دستیاب ہیں۔

ہلمند کے وسطی علاقوں مرجاہ اور ناد علی میں نیٹو کا یہ آپریشن 13 فروری کو شروع ہوا تھا۔ اس میں 15 ہزار اتحادی فوجی حصہ لے رہے ہیں اور اسے 2001ء میں افغانستان پر نیٹو کے حملے کے بعد طالبان کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔ اس مشن کا مقصد ان علاقوں سے طالبان اور منشیات کا کاروبار کرنے والوں کا کنٹرول ختم کرنا ہے۔

Afghanistan US Soldaten Flash-Galerie

آپریشن مشترک میں 15 ہزار اتحادی فوجی حصہ لے رہے ہیں

’آپریشن مشترک‘ کے دوران مرجاہ اور نادعلی میں 13 غیرملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ رواں برس افغانستان میں اب تک ہلاک ہونے والے اتحادی فوجیوں کی تعداد 60 ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM