1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’مراکش کے تنہا بچے‘ جرمن حکومت کے لیے ایک مسئلہ

جرمن حکومت مراکش سے تعلق رکھنے والے ان تارکین وطن کے حوالے سے تشویش کا شکار ہے، جو کم عمر ہیں، تنہا ہیں اور جرمنی پہنچنے والے ان بچوں میں سے زیادہ تر پریشان حال خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

جرمنی کی وفاقی حکومت ایسے بچوں کو مراکش ہی میں بہتر مستقبل دینے کے لیے منصوبہ سازی میں مصروف ہے۔ جرمن حکومت کی کوشش ہے کہ مراکش میں ایسے مراکز قائم کیے جائیں، جہاں ان تنہا بچوں کو تعلیم و تربیت کے بہتر مواقع دستیاب ہوں۔

جرمن پارلیمان میں گرین پارٹی کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کے جواب میں وزارت داخلہ نے اس منصوبے کی تفصیلات بتائی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ بچوں کے لیے مراکز قائم کرنےکے بارے میں سوچا جا رہا ہے، تاکہ مسائل کے شکار بچوں کی مدد کی جا سکے۔ جرمنی حکومتی موقف کے مطابق جرمنی میں بہ طور تارک وطن موجود یہ لاوارث بچے مختلف مراکز میں دیگر افراد کے لیے بھی متعدد مسائل کا باعث ہیں۔

حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ان مراکز میں بچوں کو طبی سہولیات کے علاوہ شعوری بہبود بھی بہم ہو گی۔ اس منصوبے کے تحت ایسے بچوں کو اسکول اور مختلف تربیتی کورسز بھی کرائے جا سکیں گے، تاکہ ان کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔

حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ان مراکز میں سب سے پہلے لاوارث بچوں کو منتقل کیا جائے گا، مگر ایسے تنہا بچے جو اس وقت جرمنی میں موجود ہیں، انہیں بھی ان کے آبائی ملک میں ان مراکز میں رکھا جا سکے گا۔

Symbolbild Einwanderung - Grenzübergang Weil am Rhein - Basel (picture-alliance/dpa/M. Media)

جرمن حکومت کے مطابق اس منصوبے پر سوچ بچار کی جا رہی ہے

حکومتی موقف کے مطابق جرمنی سے واپس جانے والے ایسے لاوارث بچے، خصوصاﹰ جرائم پیشہ گروپوں کا ہدف ہوتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال انتہائی ضروری ہے۔

جرمن وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے سے چند بچوں کا فائدہ بھی ہوا، تو یہ ایک درست قدم ہو گا۔

اس تین سالہ جرمن منصوبے کے مطابق دو ایسے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، جن میں سو سو بچوں کی گنجائش ہو گی۔ ان میں قریب آٹھ سو یورو ماہانہ فی بچہ خرچ ہو گا۔ تین سالہ منصوبے کے بعد یہ مراکز مراکشی حکومت کے سپرد کر دیے جائیں گے۔ تاہم حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے پر سوچ بچار ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ جرمن حکومت کی جانب سے تین شمالی افریقی ممالک تیونس، الجزائر اور مراکش کو ’محفوظ‘ ممالک قرار دیے جانے سے متعلق ایک قانونی بل بھی ایوان میں پیش کیا گیا تھا، جسے جرمن ایوان بالا نے مسترد کر دیا۔ جرمن حکومت چاہتی ہے کہ شمالی افریقی ممالک سے تارکین وطن کی جرمنی آمد کی حوصلہ شکنی کی جائے۔