1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مراکش میں بلدیاتی انتخابات: کئی بڑے شہر اسلام پسندوں کے نام

جمعے کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں مراکش کے زیادہ تر شہروں میں حکمران اسلام پسند جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کو کامیابیاں ملی ہیں، جو اپنے فرانسیسی نام کے مخفف PJD سے زیادہ جانی جاتی ہے۔

Marokko Wahlen Wahllokal in Rabat

مراکش میں بلدیاتی اور علاقائی انتخابات کے دوران دارالحکومت رباط میں ایک شخص اپنا ووٹ ڈال رہا ہے

یہ جماعت پہلے ہی گزشتہ چار سال سے ایک مخلوط حکومت کی قیادت کرتی چلی آ رہی ہے جبکہ ان انتخابات میں کامیابی کے بعد اس کا دائرہٴ اثر اور وسیع ہو گیا ہے۔

جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی 2011ء میں بدعنوانی کے خاتمے کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی۔ جب ’عرب بہار‘ کے زیرِ ا ثر مراکش میں بھی زیادہ آزادیوں کے لیے جدوجہد شروع ہوئی تو اسی جماعت کی کوششوں کے نتیجے میں مراکش کے شاہ محمد کو اپنے کئی ایک اختیارات سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔

جمعہ چار ستمبر کو منعقد ہونے والے علاقائی انتخابات میں پہلی مرتبہ اس جماعت کو مراکش کے بڑے شہروں میں کامیابی ملی ہے، جن میں دارالحکومت رباط کے ساتھ ساتھ کاسابلانکا، تنجر، فیض اور مراکش بھی شامل ہیں۔

جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کی حریف جماعتوں نے زیادہ امیدوار میدان میں اتارے تھے اور اُن کی کارکردگی اُن دیہی علاقوں میں بہت مستحکم رہی، جو عام طور پر جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کا مضبوط گڑھ مانے جاتے ہیں۔

جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی (PJD) پانچ ہزار اکیس بلدیاتی اور ایک سو چوہتر علاقائی نشستیں جیت کر مجموعی طور پر تیسرے نمبر پر رہی۔ پہلی پوزیشن آتھینٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی پارٹی (PAM) کو ملی، جس نے

König Mohammed VI. Marokko

جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کی کوششوں کے نتیجے میں مراکش کے شاہ محمد کو اپنے کئی ایک اختیارات سے دستبردار ہونا پڑا تھا

چھ ہزار چھ سو پچپن بلدیاتی اور ایک سو بتیس علاقائی نشستیں جیتیں۔ قدامت پسند انڈیپنڈینس پارٹی نے پانچ ہزار ایک سو چھ بلدیاتی اور ایک سو اُنیس علاقائی نشستوں پر کامیابی سمیٹی۔

مراکش نے 1956ء میں فرانس سے آزادی حاصل کی تھی اور اسلام پسندوں کی جماعت (PJD) خود کو اُن پرانے سیاستدانوں کے مقابلے پر ایک متبادل کے طور پر پیش کر رہی ہے، جو اب تک مراکش میں برسرِاقتدار رہے ہیں۔ اپنے چار سالہ دورِ اقتدار میں جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی نے کئی ایک اہم اصلاحات متعارف کروائی ہیں۔