1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’مذہب کی آڑ میں غیر ملکی مداخلت روکی جائے گی‘

چینی صدر کا کہنا ہے کہ چین کو مذہب کی آڑ میں غیر ملکی مداخلت اور ملک میں ’انتہا پسند‘ نظریات کو پنپنے سے روکنے کے لیے چوکس رہنا ہو گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذہبی تنظیمیں کیمونسٹ پارٹی کے لادین نظریات کی اطاعت کریں۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کی بیجنگ سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے یہ باتیں چین میں مذاہب کو منظم کرنے کے بارے میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہیں۔ چین کے سرکاری میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق جن پنگ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں برسراقتدار کیمونسٹ پارٹی کے مذہب کے بارے تصورات اور پالیسیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے فروغ دیا جائے گا۔

مذاہب کے بارے میں ہفتے کے روز ختم ہونے والی دو روزہ ورکنگ کانفرنس کے دوران چینی صدر کا کہنا تھا، ’’ہمیں مذہب کو استعمال کرتے ہوئے غیر ملکی مداخلت اور انتہا پسندوں کی جانب سے اپنے نظریات کو فروغ دینے کی کوششوں سے نمٹنا ہو گا۔‘‘

جائزوں کے مطابق چین میں لاکھوں بدھ، مسیحی اور مسلمان آباد ہیں۔ ملک میں برسر اقتدار کیمونسٹ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک میں مذہبی آزادی کی حامی ہے تاہم پارٹی ملک میں مذہبی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھتی ہے اور صرف سرکار کی جانب سے تسلیم کردہ مذہبی تنظیموں کو ہی چین میں فعال رہنے کی اجازت ہے۔

2012ء میں شی جن پنگ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے کیمونسٹ حکمرانوں نے سول اور مذہبی تنظیموں کے خلاف سخت رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ زیادہ تر مسلمان آبادی پر مشتمل مغربی چینی صوبے سنکیانگ میں حکام نے رمضان کے مہینے میں روزے رکھنے اور داڑھی رکھنے پر پابندی ہے۔ اسی طرح حالہ برسوں کے دوران مشرقی صوبے جیجانگ میں بھی مسیحی اکثریتی مقامی حکام نے چرچ منہدم کیے ہیں۔

بیجنگ نے 1970ء کی دہائی سے مذاہب کو مکمل طور پر ختم کرنے کی پالیسی ختم کر دی تھی۔ اس کے بجائے چین میں کلیساؤں، مساجد اور دیگر مذہبی مقامات پر حکومت کا کنٹرول بڑھا کر انہیں کیمونسٹ اقدار سے ہم آہنگ کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی تھی۔ شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کو جاری رکھا جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مذاہب اور عقائد کو چینی کلچر میں ضم کرنا چاہیے۔‘

چینی صدر کا مزید کہنا تھا، ’’کیمونسٹ پارٹی کی مذہب کے باری میں پالیسیاں اور نظریات ماضی میں بھی درست ثابت ہوئے ہیں۔‘‘