1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مذہبی مقامات کو تباہ کرنے والا شدت پسند انصاف کے کٹہرے میں

مالی کے تاریخی شہر ٹمبکٹو میں سن 2012 میں مذہبی مقامات کو منہدم کرنے کےعمل میں ملوث مشتبہ مسلم انتہا پسند احمد المہدی الفقی کو عالمی فوجداری عدالت کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اس شدت پسند کو جنگی جرائم کا الزامات کا سامنا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے بتایا ہے کہ احمد المہدی الفقی بالمعروف ’ابو تراب‘ کو ہفتے کے دن عالمی فوجداری عدالت کے سپرد کر دیا گیا ہے، جہاں اس انتہا پسند پر مقدمہ چلایا جائے گا۔ اس مشتبہ مسلم انتہا پسند پر الزام ہے کہ وہ ایک ایسے شدت پسند گروہ کا اہم رکن تھا، جو مالی کے تاریخی شہر ٹمبکٹو میں دانستہ طور پر متعدد مذہبی اور تاریخی مقامات کو مسمار کرتے ہوئے جنگی جرائم کا مرتکب ہوا تھا۔

DW.COM

عالمی فوجداری عدالت کی چیف پراسیکیوٹر فاطو نیسودہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ’’یہ مالی کے عوام کا حق ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ ان کے شہروں، عقائد اور کمیونٹیوں پر حملے کیے گئے ہیں۔‘‘ خاتون چیف پراسیکیوٹر کے بقول مالی کے عوام کی ’عظمت اور تشخص‘ پر بہیمانہ حملے تباہ کن ثابت ہوئے ہیں۔

ایک ہفتہ قبل ہی نائجر کی ایک عدالت کی طرف وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کے بعد الفقی نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔ اس کے بعد اسے ہفتے کی علی الصبح ہی دی ہیگ میں قائم عالمی فوج داری کے حوالے کر دیا گیا۔ ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ الفقی پر باقاعدہ فرد جرم کب عائد کی جائے گی۔ عالمی فوجداری عدالت نے الزام عائد کیا ہے کہ الفقی ٹمبکٹو میں فعال انتہا پسندوں کی طرف سے قائم کردہ ایک ایسی نام نہاد اسلامی عدالت سے وابستہ تھا، جو شدت پسندوں کے احکامات پرعمل کرتی تھی۔

عالمی فوجداری عدالت کے مطابق الفقی القاعدہ سے واسبتہ ’انصار دین‘ نامی ایک اسلام پسند تنظیم کا رکن تھا، جس نے 2012ء میں شمالی مالی کو اپنے قبضے میں لے رکھا تھا۔ الفقی پر الزام ہے کہ وہ اس دوران ٹمبکٹو میں کم ازکم دس مذہبی مقامات کی تباہی میں ملوث رہا، جن میں تاریخی مزارات اور ایک اہم مسجد بھی شامل تھی۔ یہ امر اہم ہے کہ یونیسکو نے ٹمبکٹو کے پورے کے پورے شہر کو ہی عالمی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔

Galerie - Timbuktu Manuskripte

پندرہویں اور سہولویں صدی کے دوران ٹمبکٹو مسلم تہذیب و ثقافت کا ایک مرکز تھا

پندرہویں اور سہولویں صدی کے دوران ٹمبکٹو مسلم تہذیب و ثقافت کا ایک مرکز تھا، جہاں 180 اسکول اور یونیورسٹیاں قائم تھیں۔ اس عرصے میں دنیا بھر سے ہزاروں لوگ وہاں تعلیم حاصل کرنے کے لیے جایا کرتے تھے۔ مسلم انتہا پسندوں نے 2012ء میں ٹمبکٹو پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد ان شدت پسندوں نے وہاں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی تھی۔ تاہم فرانسیسی فوج کی مداخلت پر ان جنگجوؤں کو وہاں شکست دے دی گئی تھی۔

مالی کی حکومت نے 2012ء میں ہی عالمی بردای سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان شدت پسندوں کے مبینہ جرائم کی تحقیقات کرے۔ عالمی فوجداری عدالت نے 2013ء میں اس حوالے سے اپنی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ اس کیس کے سلسلے میں الفقی ایسا پہلا ملزم ہے، جسے گرفتار کیا گیا ہے۔