1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

مذہبی افراد زندگی کو مثبت انداز میں دیکھتے ہیں، تحقیق

امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ وہ لوگ جو باقاعدگی سے مذہبی عبادات میں شرکت کرتے ہیں وہ غیر مذہبی لوگوں کے مقابلے میں زندگی کو زیادہ مثبت انداز میں دیکھتے ہیں اور ان میں یاسیت کا رجحان کم ہوتا ہے۔

default

جمعرات کو مذہب و صحت نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے نتائج میں ماضی کی ایک اور تحقیق کی تائید ہوئی ہے کہ مذہبی سروسز میں شرکت سے نفسیاتی اور جسمانی صحت بہتر ہو سکتی ہے اور موت کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔ اس کا سبب شاید یہ ہو سکتا ہے کہ مذہبی لگاؤ تناؤ کے وقت میں لوگوں کو پرسکون رکھنے، بامعنی سماجی رابطے بڑھانے اور بری عادات کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج کے مطابق ایک ماہ کے دوران ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ مذہبی سروسز میں شرکت کرنے والے افراد میں مثبت امید کا رجحان 56 فیصد زیادہ تھا۔

Kirche in Hong Kong

تحقیق کے مطابق مذہبی افراد زندگی کو مثبت انداز میں دیکھتے ہیں

تاہم نیویارک کی Yeshiva University میں کلینکل سائیکالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر Eliezer Schnall نے خبردار کیا کہ اس سے لوگوں کو یہ فرض نہیں کرنا چاہیے کہ مذہب سے لگاؤ اور گرجا گھر، صومعہ (یہودیوں کی عبادت گاہ)، مندر یا مسجد جانے سے ان کی زندگیاں بہتر ہو جائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تحقیق میں زیادہ تر بڑی عمر کی خواتین کا جائزہ لیا گیا ہے، لہٰذا مذہبی سرگرمیوں کے ثمرات کا شاید مردوں یا نوجوانوں پر اطلاق نہ ہو۔ گزشتہ تحقیقی مطالعوں میں بھی یہ نظر آیا ہے کہ بڑی عمر کی خواتین مذہبی سروسز میں زیادہ سماجی رابطے کرتی ہیں اور ان سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتی ہیں۔

اس سلسلے میں تحقیق کا آغاز 1991ء میں ہوا تھا جس کے لیے مالی معاونت امریکہ کے National Institutes of Health نے فراہم کی تھی۔

Schnall نے 2008ء میں خواتین کے اسی گروپ پر کی جانے والی تحقیق پر کام کیا جس میں ظاہر ہوا تھا کہ باقاعدگی سے مذہبی سروسز میں شرکت کرنے والی خواتین میں موت کے خطرے میں 20 فیصد کمی واقع ہوئی۔

Altenpflegerin Krankenschwester Alte Menschen Flash-Galerie

یہ تحقیق زیادہ تر بڑی عمر کی خواتین پر کی گئی

دونوں تحقیقی مطالعوں میں 93 ہزار کے قریب خواتین کے جوابات کا تجزیہ کیا گیا۔ ان خواتین کی عمریں 50 سے 79 برس کے درمیان تھیں۔ تحقیق میں حصہ لیتے وقت سوالوں کے جواب دیتے ہوئے 34 فیصد خواتین نے کہا تھا کہ انہوں نے گزشتہ ماہ مذہبی سروسز میں شرکت نہیں کی تھی، 21 فیصد نے ہفتے میں ایک بار سے کم شرکت کرنے، 30 فیصد نے ہفتہ وار بنیاد پر جبکہ 14 فیصد نے ہفتے میں ایک بار سے زائد ان میں شرکت کے بارے میں بتایا تھا۔

Schnall نے کہا کہ مذہبی سروسز میں شرکت کی تعداد اور ذہنی صحت کے درمیان کوئی واضح تعلق نہیں تاہم عام طور پر مذہبی سرگرمیوں میں شرکت سے دنیا کے بارے میں مثبت امید پیدا ہو سکتی ہے اور اس کے دیگر نفسیاتی اور سماجی فوائد بھی ہیں۔

مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ باقاعدگی سے مذہبی سروسز میں شرکت کرنے والے افراد میں سماجی مدد کی اطلاع دینے کا رجحان 28 فیصد زیادہ تھا۔ مذہبی افراد میں تمباکو نوشی اور کثرت شراب نوشی سے پرہیز کرنے، ڈاکٹروں کے پاس جانے اور صحت مندانہ طرز زندگی کی دیگر سرگرمیوں میں شمولیت کا رجحان بھی زیادہ ہوتا ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM