1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مذہبی اجتماع میں بھگدڑ، 24 ہلاک

بھارت کے شمالی حصے میں ایک مذہبی اجتماع کے دوران بھگدڑ مچ جانے کے باعث کم از کم 24 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق 25 دیگر افراد زخمی بھی ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ بھگدڑ اُس وقت پڑی جب ایک مذہبی اجتماع میں شرکت کے لیے جانے والے زائرین ایک پُل پر سے گزر رہے تھے۔ ایک پولیس افسر کمار پرشانت نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ بھگدڑ کا یہ واقعہ بھارتی ریاست اُتر پردیش کے شہر وارانسی میں پیش آیا۔

ایک اور پولیس افسر ایس کے بھگت کے مطابق دریائے گنگا کے کنارے پر واقع ایک مقامی ہندو رہنما جے بابا گرو دیو کے مندر میں منعقدہ مذہبی اجتماع کے منتظمیں قریب تین ہزار افراد کی شرکت کی توقع کر رہے تھے مگر خلاف توقع 70 ہزار سے زائد افراد وہاں پہنچ گئے۔ منتظمین کے ایک ترجمان راج بہادر کے مطابق، ’’ہم اتنے بڑے ہجوم کی آمد کے لیے تیار نہیں تھے۔‘‘

اس بھگدڑ کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ ٹیلی وژن پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں رنگ برنگے کپڑے اور جوتے بکھرے ہوئے دکھائے گئے ہیں اور پولیس متاثرہ علاقے کو کلیئر کرنے کی کوشش میں مصروف تھی۔

Indien Tote nach Massenpanik auf Brücke in Varanasi (picture alliance/AP Photo)

بھگدڑ اُس وقت پڑی جب ایک مذہبی اجتماع میں شرکت کے لیے جانے والے زائرین ایک پُل پر سے گزر رہے تھے

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ انہیں اس سانحے پر شدید دکھ پہنچا ہے۔ اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا، ’’میں نے حکام سے بات کی ہے اور انہیں کہا ہے کہ وہ متاثرین کی ہر ممکن مدد کریں۔‘‘

بھارت میں ایسے مذہبی اجتماعات کے موقع پر بھگدڑ کے واقعات عام ہیں جہاں چھوٹی جگہوں پر بہت زیادہ لوگ جمع ہو جاتے اور  وہاں سیفٹی اور ہجوم کو قابو میں رکھنے کے مناسب اقدامات نہیں ہوتے۔

بھارت کی ایک وسطی ریاست مدھیا پردیش میں اکتوبر 2013ء کو ہونے والے بھگدڑ کے واقعے میں 110 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے جن کی اکثریت بچوں اور خواتین کی تھی۔

گزشتہ برس جولائی میں بھارت کے جنوبی حصے میں ہندوؤں کے لیے مقدس دریا کے کنارے پیش آنے والے ایسے ہی ایک واقعے میں 27 زائرین ہلاک ہوئے۔