1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مذہبی آزادی کو دبانے سے نقصان ہوسکتا ہے، کلنٹن

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے وسطی ایشیائی ریاستوں تاجکستان اور ازبکستان کو مذہبی آزادی کو دبانے کے منفی نتائج سے خبردار کیا ہے۔

default

امریکہ وسطی ایشیائی ریاستوں میں استحکام کو افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے خاصہ اہم خیال کرتا ہے۔ وزیر خارجہ کلنٹن نے تاجک صدر امام علی رحمانوف اور ازبک صدر اسلام کریموف سے ملاقات کے بعد افغانستان کے سلسلے میں ان دونوں ممالک کے کردار پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ کلنٹن کا کہنا تھا کہ خطے میں سلامتی مذہبی آزادی سے جڑی ہوئی ہے۔

دوشنبے میں تاجک صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد انہوں نے کہا، ’میں مذہبی آزادی پر قدغن کے خلاف ہوں اور اس سلسلے میں پائے جانے والے خدشات سے متفق ہوں‘۔ امریکی وزیر کا کہنا تھا کہ ایسی قدغنوں کے باعث جائز مذہبی آزادی دب جاتی ہے اور منفی و سخت گیر نظریات فروغ پاتے ہیں۔

کلنٹن نے ’نئی شاہراہ ریشم‘ کے نام سے ایک منصوبہ کی اہمیت بھی اجاگر کی، جس کے تحت خطے میں معاشی خوشحالی کو ممکن بنانے کی بات کی جارہی ہے۔ تاجکستان اور افغانستان کے درمیان قریب 1300 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جو روایتی تجارت کے حوالے سے تاریخی اہمیت کی حامل رہی ہے۔

Wahlen in Tadschikistan Emomali Rachmonow

تاجک صدر امام رحمانوف

امریکی حکومتی ذرائع کے مطابق کلنٹن نے اپنے دورہء وسطی ایشیاء میں افغانستان متعین امریکی افواج کے لیے رسد کی فراہمی کے معاملات پر بھی بات کی۔ واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات میں تناؤ کے باعث اس راہداری کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔

ان وسطی ایشیائی سابق سوویت ریاستوں میں دہائیوں سے آمرانہ طرز کی حکومتیں قائم ہیں۔ تاجک صدر رحمانوف 1992ء سے ملک کے صدر چلے آرہے ہیں۔ صدر رحمانوف کی روس نواز سکیولر حکومت اور مخالفین کے مابین 1992ء تا 1997ء کی خانہ جنگی میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔ مسلم اکثریتی آبادی والی ان وسطی ایشیائی ریاستوں میں مذہبی آزادی محدود ہے۔

قریب 75 لاکھ کی آبادی والے ملک تاجکستان میں ایسا قانون متعارف کروایا گیا ہے، جس سے نوجوانوں کی مذہبی مقامات میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ تاجک صدر کا کہنا ہے کہ اس قسم کی پابندیاں ملک میں مذہبی انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہیں۔ ازبک صدر اسلام کریموف بھی مذہبی آزادی کو محدود تر رکھنے پر مصر ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM