1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مذاکرات کی کامیابی تک شام اور عراق سے نہیں نکلیں گے، میٹس

امریکی سربراہی میں قائم اتحاد شام اور عراق میں داعش کے خلاف جنگ اُس وقت تک جاری رکھے گا جب تک اقوام متحدہ کی طرف سے جاری امن مذاکرات آگے نہیں بڑھتے۔ یہ بات امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمیز میٹس کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’جب تک جنیوا امن مذاکرات آگے نہیں بڑھتے، ہم اُس وقت تک چھوڑ کر جانے والے نہیں ہیں۔‘‘ میٹس کا مزید کہنا تھا، ’’آپ کو اس بگڑی ہوئی صورتحال کو سنبھالنے کے لیے اب کچھ کرنا ہے، صرف یہ نہیں کہ آپ فوجی لڑائی تو لڑیں اور باقی صورتحال کے لیے محض گڈ لک کہہ کر چھوڑ دیں۔‘‘

سابق میرین جنرل کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی سربراہی میں اتحاد کا ہمیشہ سے ہدف داعش کے خلاف لڑنا اور شام کی خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ایک سفارتی حل تلاش کرنا تھا: ’’ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ایک سفارتی حل کے لیے صورتحال کو موزوں بنایا جائے۔‘‘

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹِس کی طرف سے یہ بیان امریکا اور روس کی طرف سے ہفتہ 11 نومبر کو جاری کیے گئے ایک مشترکہ بیان کے دو دن بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ شامی تنازعے کا ’’کوئی فوجی حل‘‘ نہیں ہے۔

امریکا اور روس کی طرف سے جاری کردہ مشترکہ بیان کے مطابق، ’’دونوں صدور نے شام کی خودمختاری، اتحاد، آزادی، علاقائی سالمیت اور غیر فرقہ ورانہ کردار کے حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی تائید کی۔‘‘ اس بیان میں شامی بحران کے تمام فریقوں سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ اقوام متحدہ کی طرف سے جنیوا امن مذاکرات میں شریک ہوں۔

اقوام متحدہ کی طرف سے شامی بحران کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کی آئندہ تاریخ 28 نومبر مقرر کی گئی ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت جنیوا میں یہ مذاکرات شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب اسٹیفان ڈے مِستورا کی سربراہی میں کرائے جا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اب تک شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ان امن مذاکرات کے سات راؤنڈ منعقد ہو چکے ہیں تاہم ان میں سب سے بڑی رکاوٹ کو دور کرنے کی کوئی راہ نہیں نکل سکی اور یہ رکاوٹ شامی صدر بشار الاسد کے مستقبل کے حوالے سے ہے۔

Human Flow Filmstill

شامی خانہ جنگی کے نتیجے میں اب تک ساڑھے تین لاکھ سے زائد شامی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کئی ملین گھر بار سے محروم ہو کر مہاجرت اختیار کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں

مارچ 2011ء میں حکومت مخالف مظاہروں سے شروع ہونے والی شامی خانہ جنگی کے نتیجے میں اب تک ساڑھے تین لاکھ سے زائد شامی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کئی ملین گھر بار سے محروم ہو کر مہاجرت اختیار کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔