1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مذاکرات کی بحالی کے لئے تیار ہیں، احمدی نژاد

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ وہ اب بھی جوہری پروگرام پر مغرب سے بات چیت کے لئے تیار ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی مذکرات کے ذریعے تنازعے کے حل کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔

default

ایرانی صدر نے تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ ایٹم بم کی ضرورت ان حکومتوں کو ہوتی ہے جو سیاسی طور پر پسماندہ اور غیر منطقی ہوتی ہیں۔ صدر احمدی نژاد نے کہا، ’’ وہ دو بموں سے اتنے خوفزدہ ہیں جبکہ دنیا میں بیس ہزار سے زائد ایٹم بم موجود ہیں، یہ حیرت انگیز بات ہے۔‘‘

واضح رہے کہ امریکی سی آئی اے کا دعویٰ ہے کہ ایران 2012ء تک دو ایٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔

Antirassismus Konferenz in Genf PANO

ایران کے جوہری پروگرام پر تہران اور مغرب کے مابین براہ راست مذاکرات کا سلسلہ گزشتہ سال اکتوبر سے منقطع ہے

ایرانی صدر نے کہا کہ مذاکرات کی بحالی سے قبل بڑی طاقتیں اسرائیل کے مشتبہ جوہری اثاثوں اور عالمی تخفیف اسلحہ سے متعلق اپنے مؤقف کی وضاحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتائیں کہ وہ کس حیثیت میں ایران سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، دوست یا دشمن۔ احمدی نژاد نے مذاکرات کی دوبارہ بحالی کے لئے ماہ رمضان کے دوسرے عشرے یعنی اگست کے وسط یا آخر کے دنوں کا تذکرہ کیا۔

ایران کے جوہری پروگرام پر تہران اور مغرب کے مابین براہ راست مذاکرات کا سلسلہ گزشتہ سال اکتوبر سے منقطع ہے۔ ایران نے اس وقت اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والے جوہری توانائی کےبین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کی اس تجویز کو مسترد کردیا تھا جس کے تحت اس سے کم افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرنے کا کہا گیا تھا۔

ایران کو اس کے بدلے پر امن مقاصد کے لئے افزودہ یورینیئم فراہم کرنے کی پیش کش کی گئی تھی۔ اس کے بعد فروری میں ایران نے اعلان کردیا کہ وہ بیس فیصد تک یورینیئم کو افزودہ کرنے کے کام کا آغاز کر رہا ہے جس سے مغربی طاقتیں ایران کےجوہری پروگرام پر مزید شاکی ہوگئیں۔

Symbolbild Neuanfang zwischen Iran und den USA

امریکی صدر باراک اوباما نے حال ہی میں منعقدہ جی ایٹ اور جی ٹوئنٹی کے اجلاس کے موقع پر بھی ایران کےجوہری پروگرام پر تشویش اور تنقید کا اظہار کیا

پیر کو تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب میں ایرانی صدر نے کہا کہ وہ یورینیئم کے تبادلے پر اب بھی تیار ہیں مگر یہ کام مئی میں طے پانے والے معاہدے کے تحت ہونا چاہیے۔ برازیل اور ترکی کے ساتھ طے پانے والے اس معاہدے کے باوجود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایران پر نئی پابندیاں لگا چکی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ تہران حکومت کےخلاف اضافی پابندیاں لگانے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔

دریں اثنا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی عائد پابندیوں کے بعد بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔ یہ بات انہوں نے نیویارک میں عالمی ادارے کے صدر دفتر میں صحافیوں سے بات چیت میں کہی۔ بان کی مون نے کہا کہ وہ عالمی رہنماؤں اور متعلقہ فریقین پر اس تنازعے کے مستقل حل کے لئے زور دیتے رہیں گے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : افسر اعوان