1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مذاکرات ناکام، اوباما قرض بڑھانے کی ذمہ داری اکیلے لینے کو تیار

امریکی صدر باراک اوباما نے ملکی قرضے کی حد بڑھانے کے لیے مذاکرات کی ناکامی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو نادہندہ ہونے سے بچانے کے لیے وہ قرضوں کی حد بڑھانے کی ذمہ داری اکیلے ہی لینے کے لیے تیار ہیں۔

امریکی صدر باراک اوباما

امریکی صدر باراک اوباما

انہوں نے یہ اعلان جمعہ کے روز اسی حوالے سے اپوزیشن جماعت ریبپلیکن پارٹی سے ہونے والے مذاکرات ناکام ہونے کے کچھ دیر بعد کہی۔ ان کا کہنا تھا: ’’میں یہ ذمہ داری لینے کو تیار ہوں۔‘‘ ڈیموکریٹس اور ری پبلیکنز کے درمیان بجٹ خسارے میں کمی کے لیے مذاکرات جاری تھے۔ بجٹ خسارے میں کمی حکومتی قرضے کی حد بڑھانے کے معاہدے کے لیے ایک شرط ہے۔

امریکی حکومت کے لیے قرض لینے کی موجودہ حد 14.3 ٹریلین ڈالر ہے، تاہم حکومت مئی میں ہی اس حد تک پہنچ گئی تھی۔ اگر قرض لینے کی حد نہ بڑھائی گئی، تو اگست کے آغاز میں امریکہ نادہندہ ہوسکتا ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے ایوان نمائندگان کے اسپیکر جان بویہنر کی طرف سے ان مذاکرات سے واک آؤٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے ان کے ’غیر معمولی طور پر مناسب منصوبے‘ کو رد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت نکل چکا ہے۔

باراک اوباما اسپیکر جان بویہنر اور سینیٹ کے اقلیتی رہنما Mitch McConnell کے ساتھ

باراک اوباما اسپیکر جان بویہنر اور سینیٹ کے اقلیتی رہنما Mitch McConnell کے ساتھ

مذاکرات کی ناکامی کے بعد صدر اوباما نے آج ہفتے کے روز اسپیکر جان بویہنر، سینیٹ کے اکثریتی رہنما ہیری رِیڈ، سینیٹ کے اقلیتی رہنما Mitch McConnell اور ایوان نمائندگان کی اقلیتی رہنما نینسی پلوسی کو 11 بجے صبح ایک میٹنگ کے لیے وائٹ ہاؤس طلب کرلیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کانگریس کے یہ عہدیدار یہ وضاحت کریں گے کہ ملک کو نادہندہ ہونے سے کیسے بچایا جا سکتا ہے۔

دوسری طرف امریکی سینیٹ کے اکثیرتی رہنما ہیری رِیڈ نے کہا ہے کہ امریکہ کو نادہندہ نہیں ہونے دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس خطرے سے بچنے کے لیے وہ دو جماعتی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ ایوان نمائندگان کے اسپیکر جان بویہنر کی طرف سے مذاکرات کے بائیکاٹ اور واک آؤٹ کے بعد ہیری ریڈ کا کہنا تھا: ’’ہمیں ہر قیمت سے نادہندہ ہونے سے بچنا ہوا، اس مقصد کے حصول کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ دو جماعتی مذاکرات دوبارہ سے شروع کیے جائیں۔‘‘

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM