1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مذاکرات مثبت رہے: نروپماراؤ

پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکریٹریوں نے اسلام آباد میں ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بات چیت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

default

پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات

پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی بھارتی سیکریٹری خارجہ نروپماراﺅ نے جمعرات کو اسلام آباد میں اپنے ہم منصب سلمان بشیر کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دہشتگردی سمیت تمام حل طلب معاملات پر بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے اعتماد کی بحالی پر اتفاق کیا ہے تا کہ جامع مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔ بھارت کی جانب سے بلوچستان میں مبینہ مداخلت کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں نروپما راﺅ نے کہا کہ ہمیں اپنی توجہ صرف مذاکرات کی بحالی پر رکھنی چاہئے کیونکہ بقول ان کے دونوں ممالک کے درمیان آگے بڑھنے کا راستہ صرف مثبت مذاکرات ہی ہیں ۔ راؤ کے بقول ’دونوں ممالک میں امن کی فضا قائم کرنے کےلئے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں اور اس ملاقات میں آئندہ ہونے والے مذاکرات کےلئے ایجنڈا طے کیا گیا ہے اور ان سے مذاکرات کی کامیابی کی راہ ہموار کی گئی ہے‘۔

Konflikt Indien Pakistan

نروپما راؤ نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین حل طلب مسائل پر بھی بات ہوئی ہے

پاکستانی سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر نے بھی اپنی بھارتی ہم منصب کی طرح انتہائی محتاط رویہ اپناتے ہوئے صرف مذاکرات کی بحالی پر ہی بات چیت کی اور متنازعہ امور پر بات کرنے سے گریز کیا۔ سلمان بشیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاک بھارت وزرائے اعظم کی بھوٹان میں ہونے والی ملاقات کے تناظر میں 15جولائی کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کا ایجنڈا طے کرنے پر بات کی ہے۔ انہوں نے کہا ’ اس ملاقات کے بعد میں آئندہ ماہ اسلام آباد میں ہونے والے وزرائے خارجہ مذاکرات کے حوالے سے میں پراعتماد ہوں اور مجھے پوری امید ہے کہ یہ مذاکرات دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کو کم کرنے اور دوستانہ فضا قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے‘۔

Gespräche Indien Pakistan Proteste

امسالہ فروری میں نئی دہلی میں پاک بھارت خارجہ سیکریٹریوں کے مذاکرات پر ہندو انتہا پسندوں کا احتجاج

ادھر پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ نجم الدین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات میں توقعات کے مطابق کوئی زیادہ اہم پیش رفت سامنے نہیں آئی اور محض بات چیت اور ماحول مثبت ہونے کا تاثر ہی دیا گیا۔ ان کے بقول ’ دونوں فریقوں نے کوشش کی ہے کہ ماحول کو مثبت بنا کر پیش کیا جائے لیکن مجھے جو چیز نظر آئی ہے وہ یہ ہے کہ کسی بھی اہم موضوع پر کوئی ٹھوس بات چیت نہیں کی گئی صرف اس بات پر زور دیا گیا کہ ہم مثبت اور سنجیدہ مذاکرات کے خواہاں ہیں‘۔

دریں اثناء بھارتی وزیر داخلہ پی چدم برم جمعہ کو سارک وزرائے داخلہ اجلاس میں شرکت کےلئے اسلام آباد پہنچیں گے جہاں وہ اپنے پاکستانی ہم منصب رحمان ملک کے ساتھ دہشتگردی کے خاتمے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

رپورٹ : شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت : کشور مصطفیٰ

DW.COM