1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’مدر ٹریسا اگلے برس سینٹ کے درجے پر فائز ہو جائیں گی‘

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسِس نے مدر ٹریسا کا دوسرا معجزہ بھی تسلیم کر لیا ہے، جس کے بعد ان کے سینٹ بننے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے کولکتہ کے آرچ بشپ کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس ہر دل عزیز نن کے ایک اور معجزے کو بھی پوپ فرانسِس نے تسلیم کر لیا ہے، اس طرح اب ممکنہ طور پر مدر ٹریسا اگلے برس سینٹ کے درجے پر فائز کی جا سکتی ہیں۔

بھارتی شہر کولکتہ میں ایک طویل عرصے تک غریب اور افلاس کے مارے افراد کے لیے کام کرنے والی مدرٹریسا کو عالمی شہرت ملی اور انہیں نوبل انعام سے بھی نوازا گیا۔ ایک کیتھولک اخبار کا کہنا ہے کہ اگلے برس چار ستمبر کو پوپ مدر ٹریسا کو سینٹ کا درجہ دینے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

Mutter Teresa Missionarinnen der Nächstenliebe

مدر ٹریسا نے اپنی زندگی کوکلتہ میں خدمت خلق میں گزار دی

کولکتہ کے آرچ بشپ تھومس ڈی سوزا کا کہنا ہے کہ ویٹیکن نے تسلیم کر لیا ہے کہ مدر ٹریسا نے دماغ میں متعدد رسولیوں کے حامل ایک شخص کو اپنی دعا سے شفایاب کر دیا تھا۔ ’’مجھے روم سے بتایا گیا ہے کہ پوپ فرانسِس نے مدر ٹریسا کے اس دوسرے معجزے کو بھی تسلیم کر لیا ہے۔‘‘

ٹریسا موجودہ مقدونیہ کے شہر اسکوپیے میں البانوی والدین کے ہاں پیدا ہوئی تھیں اور بعد میں انہیں خیراتی کاموں کی وجہ سے پوری دنیا میں جانا جانے لگا۔ مدر ٹریسا سن 1997ء میں 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔

مدر ٹریسا نے اپنی پوری زندگی غریبوں، ناداروں اور کولکتہ کے انتہائی پسماندہ علاقوں بیماریوں کے شکار افراد کی خدمت کی۔ بھارت کے بڑے شہروں میں سے ایک کولکتہ میں مدر ٹریسا نے کیتھولک مشنری کی بنیاد بھی رکھی۔ سن 1979ء میں انہیں امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔

سن 2003ء میں پوپ جان پاؤل نے قریب 30 ہزار عقیدت مندوں کے سامنے مدر ٹریسا کے لیے سعادت ابدی کا اعلان کیا تھا۔ رومن کیتھولک چرچ میں سعادتِ ابدی کسی شخص کے سینٹ بننے کے سلسلے کا پہلا قدم ہوتا ہے۔