1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

مدرز ڈے: پیاری ماں سلامت رہو!

قدیم ہو یا جدید ثقافتی منظر نامہ، ماں کو انتہائی معتبر درجہ حاصل ہے۔ یہ اور بات کہ ساٹھ کی دہائی میں خاندان کے ٹوٹنے والے عمل سے اِس کے وقار کو دہچکہ ضرور محسوس کیا گیا لیکن ماں کی اہمیت ہر دور میں مسلم رہی۔

default

دنیا کے بیشتر ملکوں میں مئی کا دوسرا اتوار ماؤں کا دن تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں جرمنی میں بھی آج مدرز ڈے کی مناسبت سے بچے خاص طور سے اپنی ماؤں کو تحفوں سے نواز رہے ہیں۔ اِس جیسے اور خصوصی یادگاری ایام اقتصادی ترقی کے ضامن بھی بنتے ہیں۔ جرمنی سمیت دوسرے یورپی ملکوں اور ترقی یافتہ ملکوں کے معاشروں میں اِس دِن کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ امریکہ میں اِس دِن کے لئے خصوصی تحفے خریدنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں مدر ڈے پر خصوصیت سے ریسٹورانٹوں میں غیر معمولی ہجوم دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس دِن کی مناسبت سے خصوصی کارڈز بھی مارکیٹ میں متعارف کروائے جا چکے ہیں۔

Junge trendige Mütter im Berliner Bezirk Prenzlauer Berg

مائں کا ایک گروپ

اِس دِن کو باقاعدہ طور پر منانے کی روایت سن اُنیس سو بارہ سے شروع ہوئی ہے۔ اِس دِن کی بانی امریکی خاتون اناجاروس( Anna Jarvis ) خیال کی جاتی ہیں۔ لیکن تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو قدیم رومن تہذیب میں ماں کے ادب و احترام اور محبت کے نام ایک دِن مخصوص تھا جو ماہِ جون میں منایا جاتا تھا۔ قدیمی یونان کی شہری ریاستوں میں بھی مارچ میں ماؤں کے خصوصی دِن مخصوص تھے جن میں اُن کو ملنا جلنا اُس وقت کے معاشرے کا حصہ تھا۔ لیکن موجودہ دور میں شمالی امریکہ، یورپ، افریقہ، ایشیا وغیرہ میں اِس دِن کی کڑی برطانوی روایت سے جڑی ہے۔ آج کے دور میں بھی مختلف ملکوں کی تہذیبوں اور ثقافتوں میں اِس دِن کی مناسبت سے باقاعد تاریخی تسلسل موجود ہے۔

اگر عالمی منظر نامے پر اِس دِن کی مناسبت سے ایک جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا کہ ماؤں کے نام ایک دِن کو منانے کا عمل مذہبی اقدار کے ساتھ بھی منسلک ہے۔ کوہِ ہمالیہ کے دامن میں واقع ریاست نیپال میں اِس دِن کا رشتہ ماتا ترتھی انوشی سے جڑا ہے جس کو ماں کی زیارت کا پندرہواڑہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اِن دِنوں میں مندروں میں خصوصی پوجا پاٹ کے علاوہ زندہ ماؤں کو تحفے اور رحلت پا جانی والی ماؤں کو بڑی عقیدت اور محبت سے یاد کیا جاتا ہے۔ اِس دِن کو ہندو دیوتا مہاراج کرشن کی والدہ دیواکی سے بھی منسلک کیا جاتا ہے۔ اُن کے نام کی نذر نیاز بھی دی جاتی ہے۔ شاید اِسی تعلق کی بنا پر ہندو مت میں ماں کو بھگوان کا ایک روپ قرار دیا جاتا ہے۔

BdT Blumen zum Muttertag

مدر ڈے پر پھولوں کا گلدستہ پیش کرنا مغربی اقدار کا حصہ ہے۔

اِسی مذہبی تناظر میں ایران میں مدرز ڈے پیغمبر اسلام کی دختر مبارک حضرت فاطمہ کے یوم ولادت کے دِن منایا جاتا ہے جو قمری اسلامی مہینے جمادی الثانی میں آتی ہے۔ یہ تبدیلی ایران میں رونما ہونے والی اسلامی انقلاب کے بعد لائی گئی تھی۔ اِسی روایت میں کئی اور ملکوں کی شیعہ آبادی بشمول لبنان، پاکستان اور خلیجی ریاست بحرین وغیرہ میں بھی اِس دِن کو اسی طور مناتی ہے۔ پاکستان میں اِس دِن کی اہمیت اب عام ہونے لگی ہے۔

مشرقِ بعید کے ملک جاپان میں ماں کا خصوصی یادگاری دِن شاہ اکیتو کی والدہ کے یوم پیدائش کے دِن پر منایا جاتا ہے۔ جاپانی لوگ اِس دِن اپنی ماؤں کو خاص طور سے پھول دیتے ہیں اور خیال رکھا جاتا ہے کہ پھولوں کے گلدستے میں گلاب کے پھول زیادہ اور نمایاں ہوں۔ جاپان کے ساتھ چین میں اب یہ دِن مقبولیت پا رہا ہے شاید اِس کی وجہ سیٹلائٹ کہی جا سکتی ہے۔ خاص طور سے سن انیس سو ستانوے سے غریب ماؤں کی مدد کا سلسلہ اِس دِن کے حوالے سے شروع کیا گیا۔ اب کمیونسٹ پارٹی کے کچھ اراکین بھی اِس دن کے احترام اور اہمیت کی وکالت کرتے پھرتے ہیں۔ چین کی ایک قدیمی روایت کو اِس کے ساتھ نتھی کرنے کی کامیاب کوشش سامنے آئی ہے۔ چینی سیاسی راہ نما مغربی دنیا میں تحفے تحائف دینے کی جگہ نرگس کے پھولوں کا تحفہ دینے کی تلقین کر رہے ہیں۔ قدیمی چینی ثقافت میں جو جوان بچے کاروبار یا تلاشِ روزگار کے سلسلے میں گھروں سے رخصت ہوتے تھے تو مائیں اُن کی یاد میں نرگس کے پھول کیاریوں میں اگایا کرتی تھیں۔ مشرقّ بعید کے ایک اور ملک ویت نام میں وہاں کے قمری کیلینڈر کے ساتویں مہینے کی پندرہ تاریخ ماؤں کے نام وقف ہے۔ اُس دِن تمام احباب خاص طور سے اپنی اپنی ماؤں کے ساتھ وقت گزار ک اُس دِن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

Seebeben Thailand - Warten auf die Zukunft

بچے کے لئے ماڈں کے ہاتھ الوہی شفقت کا مظہر ہوتے ہیں۔

مدرز ڈے بظاہر صرف ایک دِن ہے جب خاص طور سے ماؤں کو یاد کیا جاتا ہے لیکن اسلامی شعار میں پیغمبر اسلام نے ماؤں کی عزت و توقیر کو اپنی تعلیمات میں انتہائی زیادہ وقعت اور اجاگر کیا ہے۔ مسلم معاشروں میں پیغمبر اسلام کے فرمان کے مطابق عام طور پر کہا جاتا ہے کہ جنت کا دروازہ ماں کے قدموں تلے ہے۔ مگر حقیقت کچھ اور ہے اور مسلم نیم خواندہ اور ترقی پذیر معاشروں میں ماں کے احترام کو گئے دِنوں کی بات تصور کیا جانے لگا ہے۔ لوگ اپنی نسل کے معاملات میں اتنے محو ہو جاتے ہیں کہ اُن کی پرورش کرنے والوں کا وجود اور شخصیت پر وقت کی دھند چھانے لگتی ہے۔

پاکستان سمیت غریب ملکوں میں بھوک کی افزائش کے ساتھ ساتھ مادہ پرستی کو بھی فروغ مل رہا ہے جس سے مشرق کے اخلاقی اقدار کو شدید نقصان پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔ یورپ میں خاندان کے ٹوٹنے کا عمل تو گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی میں دیکھا گیا لیکن موجودہ صدی میں مغربی اخلاقیات میں تبدیلیاں پیدا ہونے لگی ہیں جن کو اخلاق پسند انتہائی مثبت انداز میں لے رہے ہیں۔ ایک بار پھر والدین سے انسیت پیدا کرنے کا عمل تیز ہو رہا ہے۔