1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مدد کے منتظر، صومالیہ کے باشندے

ڈولو اوڈو وہ مقام ہے جہاں جنوبی ایتھوپیا صومالیہ سے ملتا ہے۔ یہاں افریقہ کی سرخ زمین تا حد نگاہ پھیلی ہوئی ہے۔ اس علاقے میں کبھی کبھار صرف ببول کے درخت یا سوکھی ہوئی جھاڑیاں ہلتی دکھائی دیتی ہیں۔

default

اس ویرانے میں کچھ بھی نہیں اُگتا، یہاں صرف گدھےاور اونٹ ہی سوکھی جھاڑیوں کی جُگالی کرتے نظر آتے ہیں۔ تین مہاجر کیمپوں کے باہر ایک ہی سوال کھڑا نظر آتا ہے۔ کیا یہ بھوک سے مرتے ہوئے لوگوں کی نجات کی جگہ ہے؟ یا پھر یہ ویسی ہی جگہ ہے جیسے وہ پچھے چھوڑ کر آئے ہیں۔

لیکن یہاں زندگی کی ایک واضح نشانی بھی ہے۔ یہاں دریائے جینل بھی بہتا ہے، جس میں خشک سالی کے باوجود ابھی بھی پانی وافر مقدار میں موجود ہے۔ بھوک اور خشک سالی نے اس علاقے کو گھیرا ہوا ہے۔ ڈبلیو ایف پی کے جوڈت سولر کا کہنا ہے کہ ایتھوپیا کے باشندوں کو اپنے ملک میں پناہ گزینوں کی سی حیثت حاصل نہیں ہو سکتی۔ یہ حق صرف غیر ملکیوں کے لیے ہے۔ یہاں تقربیاﹰ سارے ہی لوگ صومالیہ سے آئے ہوئے ہیں۔

Hungersnot in Somalia Afrika

قحط زدہ صومالیہ میں لوگ امداد کے منتظر

انیس سالہ مریم دو دن پہلے ہی ڈولو اڈو پہنچی ہے۔ اس کا کہنا ہے، ’’وہ تین دن سے کھائے پیے بخیر ہجرت کرنے والے چند لوگوں کے ساتھ سفر کر کے یہاں پہنچی ہے۔ اگر یہاں کھانا ملا تو وہ واپس اپنے گھر نہیں جائے گی اور یہی رہے گی۔‘‘ اس کو یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہے اور امداد کرنے والے کون ہیں؟۔

کمیپ میں رہنے والے بچے اتنے کمزور ہیں کہ وہ اپنے اوپر بیٹھنے والی مکھیاں یا مچھر بھی نہیں اڑا سکتے۔کیمپوں میں رہنے والوں کی کہانیاں بہت ہی خوفناک ہیں، جن میں صرف موت، بھوک، پیاس اور مفلسی ہے لیکن وہ زندگی کا سامنا کرنے کے لیے ایک ساتھ کھڑے ہیں، جس کی قمیت کوئی بھی ادا نہیں کر سکتا۔

گمنام چہروں کے ساتھ فاطمہ عدن اپنے بچوں کو لیے ایک کچھا کچھ بھرے ہوے ٹرک میں اپنا سب کچھ آبائی گاؤں میں کھونے کہ بعد یہاں پہنچی ہے۔ ابراہیم خشک سالی کی وجہ سے اپنے 10جانوروں کی موت کے بعد چار بچوں سمیت یہاں پہنچا ہے۔ وہ اس بات پر خوش ہے کہ صومالیہ میں سب کچھ کھونے کے بعد اس کے بچے صیح سلامت اور صحت مند ہیں۔

ان سب میں دھابی بدقسمت شخص ہے، جس کے 9 بچے ہیں اور وہ سب کے سب ہی ملریا اور اسہال کا شکار ہیں۔ وہ اتنے کمزور ہیں کہ بستر سے اُٹھ بھی نہیں سکتے۔ اس کی ماں اور بہن قحط کی وجہ سے مر چکی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ سب کچھ کھو چکا ہے اگر اس کے پاس کچھ ہے تو وہ اس کے بچے ہیں اور وہ ان کی خاطر آخری حد تک لڑے گا۔ مریم کا کہنا ہے کہ ایک بُرے تجربے کے بعد کمپ میں سب متحد ہیں لیکن بھوک تو بھوک ہے اس کو ہم الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے۔

رپورٹ: سائرہ ذوالفقار

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM