مدد کریں، یہ آخری موقع ہے: جاپانی صحافی کی اپیل | حالات حاضرہ | DW | 30.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مدد کریں، یہ آخری موقع ہے: جاپانی صحافی کی اپیل

گزشتہ برس شام میں لاپتہ ہونے والے جاپانی صحافی کی ایک تازہ تصویر آن لائن شائع ہوئی ہے۔ اس تصویر میں اس صحافی کی داڑھی بڑھی ہوئی ہے اور وہ ایک پلے کارڈ اٹھائے ہوئے ہے، جس پر درج ہے، ’’مدد کریں، یہ آخری موقع ہے۔‘‘

Jumpei Yasuda japanischer Journalist

رواں سال مارچ میں بھی جاپانی صحافی زومپئے یاسودا کی ایک ویڈیو جاری کی گئی تھی

قریب ایک برس قبل شام سے لاپتہ ہونے والے جاپانی صحافی زومپئے یاسودا کی تازہ شائع کردہ ایک تصویر کو مقامی میڈیا میں وسیع کوریج ملی ہے۔ اس تصویر میں یہ صحافی نارنجی رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور ان کے سر اور داڑھی کے بال بڑھے ہوئے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں ایک پلے کارڈ ہے جس پر جاپانی زبان میں درج ہے کہ ’مدد کریں، یہ آخری موقع ہے‘۔

یاسودا کی یہ تصویر جاپان کے سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے اور دیگر مقامی ذرائع ابلاغ نے بھی شائع کی ہے۔ جاپان کے وزیر خارجہ فومیو کیشیدا نے صحافیوں سے بات چیت میں بتایا، ’’ امکان ہے کہ اس تصویر میں نظر آنے والا شخص یاسودا ہے۔ فی الحال حکومت اس تصویر کا تجزیہ کر رہی ہے۔‘‘ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ تصویر کب اور کہاں لی گئی تاہم یہ تصویر رواں برس مارچ میں یاسودا کی ایک ویڈیو فلم آن لائن شائع ہونے کے بعد سامنے آئی۔

مارچ میں شائع ہوئی اس ایک منٹ کی ویڈیو میں ایک باریش شخص کو دکھایا گیا، جس نے سیاہ رنگ کا جمپر پہنا ہوا ہے اور گردن کے گرد ایک رومال باندھ رکھا ہے۔ اس ویڈیو میں اس شخص کو انگلش میں یہ کہتے دکھایا گیا ہے، ’’ ہیلو میرا نام زومپئے یاسودا ہے اور آج 16 مارچ میری سالگرہ کا دن ہے۔‘‘

یہ فوٹیج طارق عبدالحق نامی ایک شخص نے آن لائن شائع کی تھی، جس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ مذکورہ ویڈیو اسے النور نامی ایک گروپ نے فراہم کی تھی۔ طارق عبدالحق کے مطابق النور کو شام میں حکومت کے خلاف لڑنے والے اہم جہادی گروپ النصرہ فرنٹ جو القاعدہ نیٹ ورک کا حصہ ہے، کی جانب سے یاسودا کی رہائی کے لیے ثالث بنایا گیا ہے۔

جاپان کے سرکاری نشریاتی ادارے ’این ایچ کے‘ کے مطابق یہ وہی شخص ہے، جس نے یاسودا کی تازہ تصویر آن لائن شائع کی ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال عراق اور شام میں سر گرم عمل خود ساختہ دولت اسلامیہ نے جاپانی جنگی نامہ نگار کینجی گوٹو اور ان کے دوست ہارونا یوکاوا کے سر قلم کر دیے تھے۔

Japanischer Journalist Kenji Goto Archiv 2014 Kobane

گزشتہ برس داعش نے جاپانی نامہ نگار کینجی گوٹو کا سر قلم کر دیا تھا

اپنے دو یرغمالی شہریوں کو داعش سے رہا نہ کرا سکنے اور اس بحران میں غیر لچکدارانہ رویے کا مظاہرہ کرنے کے باعث ٹوکیو کی حکومت کو داخلی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تنقید نگاروں کا کہنا تھا کہ حکومت نے دونوں جاپانی یرغمالیوں کو رہا کرانے کے ممکنہ مواقع بھی گنوا دیے تھے۔

داعش کی جانب سے جاپانی شہریوں کو یرغمال بنائے جانے کی وجہ جاپانی حکومت کی طرف سے ان ممالک کی مدد کو قرار دیا گیا تھا، جو اس دہشت گرد گروپ کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

اس ماہ کے آغاز میں تین ہسپانوی نامہ نگاروں کو جنہیں شام میں القاعدہ سے منسلک ایک گروپ نے یرغمال بنایا تھا، رہا کردیا گیا تھا۔ اسپین کی یوروپا پریس نیوز ایجنسی نے ذرائع کا حوالہ دیے بغیر بتایا تھا کہ رہا ہونے والے ان 3 ہسپانوی یرغمالیوں نے قید میں کچھ وقت یاسودا کے ساتھ بھی گزارا تھا۔

DW.COM