1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتا، جنرل راحیل شریف

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ وہ رواں برس نومبر میں اپنی تین سالہ مدت ملازمت کی تکمیل پر اپنے عہدے سے سبک دوش ہو جائیں گے اور اس میں کوئی توسیع نہیں چاہیں گے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے پیر پچیس جنوری کے روز جاری کردہ ایک بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف کا اپنے موجودہ عہدے کی مدت میں اضافے سے متعلق حکومت سے کوئی درخواست کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستان کے یہ طاقت ور اور بااختیار ترین عہدیدار شدت پسندوں کے خلاف عسکری مہمات کی وجہ سے عوام میں بہت مقبول ہیں۔

جنرل راحیل شریف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائیاں پوری شدومد سے جاری رہیں گے اور ان میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ یہ بات پاکستانی فوج کے ترجمان کی جانب سے ٹوئٹر پر ایک پیغام کی صورت میں کہی گئی۔

Raheel Sharif und Premierminister Nawaz Sharif

راحیل شریف نے سن 2013ء میں فوج کی کمان سنبھالی تھی

یہ بات اہم ہے کہ ان سے قبل پاکستان کے دو فوجی سربراہوں نے اپنی مدت ملازمت کی تکمیل پر سبک دوش ہونے کی بجائے اس میں توسیع کروائی تھی۔

اس سے قبل پاکستانی میڈیا پر یہ چہ مگوئیاں کی جا رہی تھیں کہ ممکنہ طور پر ماضی میں فوجی سربراہان کی طرح وہ بھی اپنی مدت ملازمت میں توسیع کروا سکتے ہیں۔

فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے اپنے ایک اور ٹوئٹر پیغام میں جنرل راحیل شریف کے حوالے سےلکھا، ’’پاکستانی فوج ایک عظیم ادارہ ہے۔ میں مدت ملازمت میں توسیع پر یقین نہیں رکھتا اور اپنے وقت پر ریٹائر ہو جاؤں گا۔‘‘

فوجی ترجمان نے جنرل راحیل شریف کے حوالے سے مزید کہا، ’’دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔ پاکستان کے قومی مفاد کو مقدم رکھا جائے گا اور ہر حال میں اس کا دفاع کیا جائے گا۔‘‘

جنرل راحیل شریف کو سن 2013ء میں جنرل اشفاق کیانی کے ریٹائر ہونے پر ملکی فوج کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔