1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مختلف رہنماؤں کی نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان مفاہتی کوششیں

پاکستان میں وکلاء تحریک کی لانگ مارچ کی کال میں نواز لیگ کی شمولیت کے اعلان کے بعد حکومت اور دیگر سیاسی رہنما اس کوشش میں مصروف ہیں کہ کسی طرح پیپلز پارٹی اور نواز شریف میں مفاہمت کرائی جائے۔

default

نواز شریف نے وکلاء تحریک کی لانگ مارچ کی کال کا بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں سیاسی حلقوں کی ان مفاہمتی کوششوں کی واضح دوڑ دکھائی دے رہی ہیں۔ بلوچستان کے وزیر اعلٰی اسلم رئیسانی چند روز قبل نااہل قرار دیئے جانے والے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملے تھے اور آج جمعہ کے روز انہوں نے اس مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کی غرض سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے

Pakistan Asif Ali Zardari neuer Präsident

انتخابات کے بعد بننے والا حکمران اتحادچند ماہ سے زیادہ ساتھ نہ چل سکا

ساتھ بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ رئیسانی کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی کشیدگی کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا ضروری ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسلم رئیسانی نے کہا کہ شریف برادران کی نا اہلی کا فیصلہ واقعی تکلیف دہ ہے جس سے کشیدگی پیدا ہوائی اور پنجاب میں گورنر راج کے اعلان نے اس کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اسلم رئیسانی کا کہنا تھا کہ مختلف سیاسی جماعتوں اور قائدین کی جانب سےن لیگ اور پی پی کے درمیان میں مفاہمت کی کوششیں جاری ہیں اور جلد ہی اس سلسلے میں کسی پیش رفت کی امید ہے۔

شریف برادران کی نااہلی اور پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ نواز کے درمیان کشیدگی میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ فریقین کی جانب سے چند روز قبل ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری تھا تاہم اب مفاہمت کے لئے راستے کھلے ہونے کے اشارے بھی دئیے جا رہے ہیں۔

آج جمعہ ہی کے روز جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے میاں نواز شریف سے ملاقات کی۔ اس سے قبل مولانا فضل الرحمان نے صدر زرداری سے بھی ملاقات کی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف سے ملاقات میں مولانا فضل الرحمان نے صدر زرداری کا پیغام میاں نواز شریف تک پہنچایا۔ ذرائع کے مطابق مختلف سیاسی رہنما اس کوشش میں مصروف ہیں کہ میاں نواز شریف کی ملاقات براہ راست صدر زرداری سے کروادی جائے۔

دوسری جانب حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے لب و لہجے میں بھی نواز لیگ کے حوالے سے چند روز قبل دیکھی جانے والی تیزی میں کچھ کمی نظر نہیں آ رہی اور مفاہمتی بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا ’’ہم نا اہلی کے فیصلے پر ن لیگ کے ساتھ ہیں۔‘‘ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انکار کی سیاست سے ملک کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ شیری رحمن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اب بھی نواز لیگ کے ساتھ میثاق جمہوریت پر آگے بڑھنے کو تیار ہے۔