1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مختار مائی مقدمے کے ملزمان جیل سے رہا

مختار مائی سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو پاکستانی سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے بحال رکھا ۔ اب اس مقدمے میں مقید پانچ ملزمان کو عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔

default

مختار مائی: فائل فوٹو

لاہور ہائی کورٹ میں مختار مائی گینگ ریپ کیس میں سزا پانے والے ملزمان کی درخواستوں پر استغاثہ کی جانب سے ٹھوس شواہد اور مضبوط گواہیاں پیش نہ کرنے پر رہائی کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ اسی عدالت میں ایک ملزم عبد الخالق کی عمر قید کی توثیق کی گئی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ)کے فیصلے کی روشنی میں گینگ ریپ کے پانچ ملزمان کو ملتان کی سینٹرل جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔ سینٹرل جیل کے سپریٹنڈنٹ رانا تنویر نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی مستند نقل موصول ہونے کے بعد ہی ان افراد کو رہا کیا گیا ہے۔

مختار مائی گینگ ریپ کیس میں کل چھ افراد کو انسداد دہشت گردی کی ماتحت عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ یہ سزا لاہور ہائی کورٹ نے کمزور شہادتوں کی بنیاد پر معاف کرتے ہوئے چھٹے ملزم کی موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔ مائی کے ساتھ زیادتی کا وقوعہ سن 2002 میں پیش آیا تھا۔ انہوں نے کل چودہ افراد کے خلاف پولیس رپورٹ درج کروائی تھی۔

Pakistan Islamabad Gebäude vom Vefassungsgericht

پاکستانی سپریم کورٹ کے باہر نصب علامتی میزان عدل

رہائی کے بعد ایک شخص فیض بخش کا کہنا تھا کہ وہ تمام لوگ بے گنا ہیں اور بغیر کسی جرم کے غیر ملکی دباؤ پر انہیں جیل میں رکھا گیا تھا۔ رہائی پانے والے افراد کو جیل کے مرکزی گیٹ کے بجائے ایک دوسرے چھوٹے گیٹ سے باہر نکالا گیا تھا۔

دوسری جانب مختار مائی نے کہا ہے کہ وہ ان پانچ افراد کی رہائی کے خلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کریں گی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس مقدمے کو ایک بار پھر عالمی برادری کی توجہ حاصل ہوگئی ہے۔ روئٹرز سے بات کرتے ہوئے مختار مائی کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے ریپ ہونے والی خواتین اب انصاف طلب کرنے کے معاملے میں خاموشی اختیار کرنے کو ترجیح دیں گی۔ مائی کے مطابق اگر ایک عورت کو انصاف ملتا تو یہ سلسلہ قائم ہوجاتا اور بقیہ متاثرہ عورتیں بھی انصاف کے حصول کی کوشش کرتیں۔ انہوں نے اپنی جان کو خطرہ لاحق ہونے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

ان دنوں مختار مائی نے ملنے والے عطیات سے ایک ویلفیئر تنظیم قائم کر رکھی ہے جو غریب خواتین اور لڑکیوں کی مدد کے ساتھ انہیں تعلیم حاصل کرنے میں معاونت فراہم کرتی ہے۔

خواتین کے حقوق کے ایک سرگرم غیر سرکاری ادارے عورت فاؤنڈیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کے منفی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ گزشتہ سال بھی ملک بھر میں کم از کم سامنے آيے والے ریپ کیسز کی تعداد ایک ہزار ہے۔ بیان کے مطابق تقریباً دو ہزار سے زائد عورتوں کو اغوا کیا گیا اور مختلف وارداتوں میں پندرہ سو خواتین کو قتل کیا گیا تھا۔ ان کے علاوہ غیرت کے نام پر پانچ سو عورتوں کو جان سے مار بھی دیا گیا۔

رپورٹ: عابد حسین ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس