1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

محمود عبّاس الفتح کے قائد اور فلسطینی انتظامیہ کی زبوں حالی

فلسطینی تنظیم الفتح کی بیت الحم میں منعقدہ کانگریس میں ہفتہ کو فلسطینی صدر محمود عبّاس کو ایک مرتبہ پھر تنظیم کا سربراہ منتخب کرلیا گیا ہے تاہم الفتح حالیہ چند برسوں میں کمزور اور فلسطینی انتظامیہ زوال کا شکار ہے۔

default

فلسطینی صدر محمود عبّاس

Zielsicher ins Chaos

دو ہزار سات میں غزّہ کے علاقے میں الفتح کو حمّاس کے ہاتھوں زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا

الفتح کے رہنما طیّب عبدالرحیم کے مطابق پارٹی کانگریس میں اراکین کی اکثریت نے محمود عبّاس کو ایک مرتبہ پھر تنظیم کا سربراہ منتخب کرلیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق محمود عبّاس کو دو ہزار سے زائد پارٹی اراکین نے ووٹ دیے۔

محمّود عبّاس نومبر دو ہزار چار میں الفتح کے قائد یاسر عرفات کے انتقال کے بعد پارٹی کے سربراہ منتخب کیے گئے تھے۔ تاہم سن 2004 کی نسبت آج الفتح کو کئی داخلی مسائل کا سامنا ہے۔

یاسر عرفات کے انتقال کے بعد الفتح کی سینٹرل کمیٹی نے محمود عبّاس کو نیا قائد چنا تھا تاہم اس مرتبہ ان کا انتخاب پارٹی کانگریس میں کیا گیا ہے۔ بیس برسوں میں اس نوعیت کی یہ پہلی پارٹی کانگریس تھی جو فلسطینی سر زمین پرمنعقد ہوئی تھی۔ پارٹی قائد کے انتخاب کے علاوہ اس کانگریس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سینٹرل کمیٹی کے اراکین کی تعداد 21 ہو گی جن میں سے 18 کو کانگریس کے ذریعے جبکہ تین کا انتخاب تقرّری کے ذریعے کیا جائے گا۔

Jassir Arafat

محمّود عبّاس نومبر دو ہزار چار میں الفتح کے قائد یاسر عرفات کے انتقال کے بعد پارٹی کے سربراہ منتخب کیے گئے تھے

پارٹی کانگریس 120 اراکین پر مشتمل ایک ’انقلابی کونسل‘ کا بھی انتخاب کرے گی۔ الفتح کو امید ہے کہ ان انتخابات کے لیے غزّہ پر ’قابض‘ عسکری تنظیم حمّاس وہاں الفتح کے اراکین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دے گی تاہم حمّاس کے مطابق وہ الفتح کے اراکین کو غزّہ میں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

واضح رہے کہ حمّاس نے غزّہ میں موجود الفتح کے 400 اراکین کو بیت الحم میں منعقدہ الفتح کانگریس میں شرکت سے روک دیا تھا۔

محمّود عبّاس الفتح کے دوبارہ قائد تو منتخب ہو گئے۔ تاہم نہ ہی اب الفتح یاسر عرفات کے دور جتنی مضبوط ہے اور نہ ہی محمّود عبّاس کے بین الاقوامی ناقدین کی کمی ہے۔

Barak Obama und Mahmoud Abbas

محمود عبّاس اور مغربی ممالک کے درمیان اعتماد پایا جاتا ہے

فلسطینی انتظامیہ پر بھاری بدعنوانی کا الزام ہے اور فلسطینی صدر محمّود عبّاس کے ناقدین ان پر الزام عائد کرتے ہیں کہ فلسطینی انتظامیہ میں پائی جانے والی وسیع بد عنوانی میں وہ بھی شریک ہیں، یا کم از کم یہ بد عنوانی ان کی آنکھوں کے سامنے کی جا رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق فلسطینی انتظامیہ کی یہی بدعنوانی حمّاس جیسی عسکری تنظیم کی مقبولیت کا سبب بنی ہے۔ نہ صرف یہ کہ حالیہ چند برسوں میں حمّاس فلسطینی علاقوں میں مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی بلکہ اس وقت وہ مکمل طور پر غزّہ پٹّی پر قابض ہے۔

یہ تمام صورتِ حال یاسر عرفات کے انتقال اور محمود عبّاس کے پارٹی کا قائد بننے کے بعد رونما ہوئی ہے۔ اس صورتِ حال کو محمّود عباّس کی قائدانہ اہلیت پر ایک سوالہ نشان قرار دیا جاتا ہے۔

تاہم مشرقِ وسطیٰ اور فلسطینی سیاست پر نظر رکھنے والے افراد کا یہ موقف ہے کہ فلسطینی اتھارٹی میں کسی بھی شخص کا قائدانہ کردار امریکہ، برطانیہ اور مغربی ممالک کی مشاورت کے بغیر ناممکن ہوتا ہے۔ اس حوالے سے محمّود عبّاس اور مغرب ممالک کے درمیان ایک خاص طرح کا اعتماد یا ’ورکنگ ریلیشن شپ‘ قائم ہے اور فلسطینی انتظامیہ کی کرپشن اور محمّود عبّاس کی پالیسیوں کے نتیجے میں حمّاس جیسی تنظیم کی افزائش جیسے ’امور‘ کو فی الحال نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔

DW.COM