1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

محمد یونس نے اپنی برطرفی چیلنج کر دی

بنگلہ دیش کے نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس نے گرامین بینک کی سربراہی سے اپنی برطرفی کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ انہیں ملک کے مرکزی بینک نے ابھی ایک روز پہلے ہی اس عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

default

محمد یونس

محمد یونس گرامین بینک کے بانی ہیں، تاہم مرکزی بینک کا کہنا تھا کہ وہ منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر ذمہ داریاں طویل عرصے سے سنبھالے ہوئے ہیں، جو قانون کے خلاف ہے۔

محمد یونس کے ایک وکیل کا کہنا ہے، ’یونس نے اپنی برطرفی کے خلاف ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کر دی ہے۔‘

وکلاء کا کہنا ہے کہ اس اپیل کے لیے عدالتی کارروائی جمعرات کو کسی وقت شروع ہو سکتی ہے۔ اُدھر بنگلہ دیش میں قائم امریکی سفارت خانے نے محمد یونس کی برطرفی پر سخت ردِ عمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ اس حوالے سے مزید پیش رفت اور ڈھاکہ حکومت کی جانب سے وضاحت کی منتظر ہے۔

سفارت خانے کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن آٹھ مارچ کو محمد یونس سے واشنگٹن میں ملاقات کریں گی اور اس دوران اس معاملے پر مزید بات چیت ہو گی۔

بنگلہ دیش میں کمرشل بینکوں کے منیجنگ ڈائریکٹرز کے لیے ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ برس ہے۔ تاہم محمد یونس نے کہا ہے کہ بینک کے بورڈ کی جانب سے انہیں اس وقت تک اس عہدے پر فائز رہنے کی اجازت ہے، جب تک وہ چاہیں۔

گرامین بینک ستّر سالہ محمد یونس نے ہی قائم کیا تھا اور وہ 2000ء سے اس کے منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے۔ بینکاری کے ذریعے غریبوں کی مدد پر انہیں بین الاقوامی سطح پر سراہا جاتا ہے، تاہم گزشتہ برس کے آخر سے انہیں بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد کی حکومت کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے، جس کی وجہ گرامین بینک میں مبینہ بے ضابطگیاں ہیں۔

Phone business financed by a Grameen Bank loan

گرامین بینک کے ذریعے غریبوں بالخصوص خواتین کو چھوٹے کاروبار کے لیے قرضے دیے گئے

دراصل گزشتہ برس ناروے کے ایک ٹیلی وژن نے اپنی ایک دستاویزی فلم میں کہا تھا کہ گرامین بینک نے1990ء کی دہائی میں ٹیکسوں کے تناظر میں ناروے کے ایک امدادی ادارے کی جانب سے فراہم کیے گئے فنڈز کی قانونی مَد تبدیل کر دی تھی۔

اس دستاویزی فلم کے منظر عام پر آنے کے بعد بنگلہ دیش میں اور بیرون ملک محمد یونس کے بارے میں ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا، جن کے بینک نے چھوٹے قرضوں کی مَد میں بالخصوص خواتین کو دس ارب ڈالر کے انفرادی قرضے دیے، جس کا مقصد انہیں کاروبار شروع کرنے میں مدد فراہم کرتے ہوئے غربت سے چھٹکارا دلانا تھا۔

بعدازاں ناروے کی حکومت نے کہا کہ گرامین بینک کے خلاف الزامات کی تفتیش کی گئی لیکن بدعنوانی اور فنڈز کے غلط استعمال کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس