1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

محمد عمران پاکستانی ہاکی ٹیم کے نئے کپتان، توقعات وخدشات

محمد عمران نے امید ظاہر کی ہے کہ ٹیم میں شامل تمام سینئر کھلاڑی ان سے تعاون کریں گے۔ اذلان شاہ کپ کے سلسلے میں پاکستانی ٹیم اپنا پہلا میچ جمعرات کو ایپوہ میں نیوزی لینڈ کے مقابل کھیلے گی۔

default

26 سالہ فل بیک محمد عمران کو پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اس ٹیم کی قیادت سونپی ہے، جس میں تین سابق کپتانوں ریحان بٹ، وسیم احمد اور شکیل عباسی کے ساتھ قیادت کے ایک اور امیدوار سہیل عباس بھی شامل تھے۔

اذلان شاہ کپ میں شرکت کے لئے ایپوہ روانہ ہونے سے پہلے ریڈیو ڈوئچے ویلے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محمد عمران کا کہنا تھا کہ وہ دو برس سے ٹیم کے نائب کپتان ہیں اور ان کے تمام سینئرز کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں اس لئے توقع ہے کہ وہ ان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔

Pakistanischer Hockeyspieler Sohail Abbas

سہیل عباس بھی کپتانی کے امیدوار تھے

کم گوعمران کے مطابق ٹیم کا اصل ہدف اگلے برس ہونے والا لندن اولمپکس ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اذلان شاہ ٹورنامنٹ کے دوران دسمبرمیں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی کی تیاری کا اچھا موقع ملے گا۔

اگلے برس جولائی اور اگست میں ہونے والے لندن اولمپکس سے پہلے پاکستان ہاکی ٹیم کو دنیا کی مختلف ٹیموں کے خلاف کم ازکم پچاس انٹر نیشنل میچز کھیلنا ہیں۔ اس عرصے میں روایتی حریف بھارت کے خلاف دو طرفہ ممکنہ سیریز کےعلاوہ پاکستانی ہاکی ٹیم یورپ اور آسٹریلیا کا دورہ بھی کرے گی۔

محمد عمران کا کہنا تھا دنیا کی سرکردہ ٹیموں کے خلاف جہاں نئے کھلاڑیوں کو آزمانے کا موقع ملے گا، وہیں سینئر کھلاڑیوں کی فٹنس اور خامیوں کو بھی سدھارا جا سکے گا، ' اولمپکس سے پہلے ہم اتنے تجربات کر لیں گے کہ اچھی ٹیم تشکیل دینا مشکل نہ ہوگا'۔ محمد عمران نے امید ظاہر کی کہ جواں سال کھلاڑی جلد ہی اچھی کارکردگی دکھا کر پاکستان ہاکی کا مستقبل اپنے ہاتھ میں لے لیں گے۔

پاکستان کی ڈیپ ڈیفنس میں ریڑھ کی ہڈی سمجھنے جانے والے محمد عمران کا کہنا ہے،' نئے کھلاڑیوں کو ٹیم میں متحد رکھ کر مستقبل میں ماضی جیسی کامیابیاں حاصل کرنا میری اولین ترجیح ہوگا'۔ محمد عمران کے بقول فاروڈ لائن پاکستان ٹیم کی سب بڑی کمزوری ہے۔

ماضی میں علی اقتدار شاہ دارا سے لیکر شہباز سینئر تک ہرپاکستانی کپتان کی کامیابی کا رازاٹیکنگ ہاکی رہی ہے۔ مگرعمران کی سوچ کے زوایے اپنے پیش روؤں سے ذرہ مختلف ہیں،' عصر حاضر کی ہاکی میں ستر منٹ میں اٹیک کے ساتھ دفاع بھی اتنا ہی لازم ہے اور ہماری ایشین گیمز کی کامیابی بھی اسی حکمت عملی کا نتیجہ تھی'۔ پاکستان ہاکی کے حلقوں نے محمد عمران کو کپتان بنانے پر کامیابی کا امکان ظاہر کیا ہے تاہم سابق کپتان خالد محمود جن کی قیادت میں پاکستان نے بارسلونا میں پہلا عالمی کپ جیتا تھا نے کہا کہ کئی سابق کپتانوں کی موجودگی کے باعث عمران کے لئے مشکلات ہوں گی کیونکہ ایک بار کپتان بننے والا کھلاڑی اس خول سے کبھی باہر نہیں آتا۔

Flash-Galerie Sport Jahresrückblick 2010

اولمپکس سے قبل روایتی حریف بھارت کے خلاف دو طرفہ ممکنہ سیریز کےعلاوہ پاکستانی ہاکی ٹیم یورپ اور آسٹریلیا کا دورہ بھی کرے گی

خالد محمود کے مطابق سلیکٹرز نے ایسے پرانے کھلاڑی ٹیم میں شامل کر لیے ہیں، جن میں سے نوے فیصد اولمپکس کھیلنے کے اہل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے حکام پر دوہرے معیار کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف نئی ٹیم تیار کرنے کے دعوے کیے جاتے اور دوسری جانب شکست کے خوف سے پرانے کھلاڑیوں پر ہی تکیہ کیا جا رہا ہے۔

پاکستان ٹیم کے ایک اورسابق کپتان احمد عالم نے کہا محمد عمران اولمپکس کے لئے اچھے کپتان ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کھیل کی بہتری کے لیے دور رس نتائج کے حامل فیصلے کر رہی ہے۔

رپورٹ: طارق سعید، لاہور

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس