1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

محمد عامر کے باعث اظہر اور حفیظ کا کیمپ میں شمولیت سے انکار

پاکستانی میڈیا کے مطابق قومی ون ڈے کرکٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی اور اوپننگ بیٹسمین محمد حفیظ نے سپاٹ فکسنگ کے جرم میں سزا یافتہ فاسٹ بولر محمد عامر کی موجودگی میں ملکی ٹیم کے ٹریننگ کیمپ میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے۔

Pakistan Kricket Muhammad Amir

محمد عامر

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے جمعرات چوبیس دسمبر کو ملکی میڈیا کے حوالے سے ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق محمد عامر سپاٹ فکسنگ کے جرم میں خود پر پانچ سالہ پابندی کا عرصہ مکمل کر چکے ہیں اور انہیں قومی کرکٹ ٹیم کے ایک کیمپ میں مدعو کیا جا چکا ہے۔

لیکن اس بارے میں ون ڈے ٹیم کے کپتان اظہر علی اور سٹار بیٹسمین محمد حفیط نے اب یہ کہہ دیا ہے کہ محمد عامر کی اس تربیتی کیمپ میں شمولیت کے باعث وہ اس کیمپ میں شامل نہیں ہوں گے۔

پاکستان کے ایک نجی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ دونوں کھلاڑی اس بات پر خوش نہیں ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ پی سی بی نے محمد عامر کو اس ٹریننگ کیمپ کے لیے منتخب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا انعقاد قومی ٹیم کے دورہ نیوزی لینڈ سے قبل کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی ٹیم اگلے مہینے اس دورے کے دوران نیوزی لینڈ کے خلاف محدود اوورز کی سیریز کھیلے گی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ اظہر علی نے ایک نجی ٹیلی وژن کو بتایا کہ جب تک اس تربیتی کیمپ میں محمد عامر شامل رہیں گے، وہ اس ٹریننگ میں شامل نہیں ہوں گے۔ ساتھ ہی اظہر علی نے یہ بھی کہا کہ وہ اس موضوع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت پر بھی تیار ہیں۔

Azhar Ali

پاکستانی ون ڈے ٹیم کے کپتان اظہر علی، تصویر، کے علاوہ اوپننگ بیٹسمین محمد حفیظ کو بھی عامر کی کیمپ میں شرکت پر اعتراض ہے

دوسری طرف محمد حفیظ نے بھی، جو محمد عامر کی ممکنہ طور پر قومی ٹیم میں واپسی کے خلاف آواز اٹھانے والے پہلے کھلاڑی تھے، ابھی تک اس ٹریننگ کیمپ میں شرکت نہیں کی۔

محمد حفیظ نے عامر کے خلاف پہلی بار احتجاج اس وقت کیا تھا، جب انہوں نے حال ہی میں کھیلی گئی بنگلہ دیش کی ٹی ٹوئنٹی لیگ میں چٹاگانگ وائکنگز کی طرف سے عامر کے ساتھ مل کر ایک ہی ٹیم میں کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔ محمد حفیظ کا موقف تھا کہ وہ کسی ایسے کھلاڑی کے ساتھ نہیں کھیل سکتے، جو پاکستان کی بدنامی کا باعث بنا ہو۔

DW.COM