1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

محمد عاشق کا اولمپکس سے رکشہ ڈرائیوری تک کا سفر

انیس سو ساٹھ اور چونسٹھ میں پاکستانی سائیکلسٹ محمد عاشق نے اولمپکس مقابلوں میں اپنے وطن کی نمائندگی تھی۔ اس وقت وہ گم نامی کی زندگی گزار رہے ہیں اور رکشہ چلا کر گزر بسر کر رہے ہیں۔

محمد عاشق نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’شاید زیادہ تر پاکستانی تو یہ سمجھتے ہوں گے کہ میں مر چکا ہوں۔‘‘

اکاسی سالہ عاشق مزید کہتے ہیں، ’’مجھے یاد ہے کہ میں نے سابق وزرائے اعظم اور صدور سے مصافحہ کیا تھا۔‘‘

عاشق اب لاہور میں ایک رکشہ چلا کر گزر بسر کرتے ہیں۔ ان کے رکشے پر جو پوسٹر لگے ہیں اس میں ان کے کھیلوں کی دنیا میں خدمات کا ذکر اور پاکستان کی حکومت سے ناراضی واضح جھلکتی ہے۔

عاشق نے اپنے کھیلوں کے کیریئر کا آغاز ایک باکسر کے طور پر کیا تھا تاہم وہ انجریز کے بعد سائیکلنگ سے وابستہ ہو گئے۔

''میں اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کر کے خود کو انتہائی خوش قسمت سمجھتا ہوں۔‘‘

واضح رہے کہ برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں پانچ اگست سے اولمپک مقابلے شروع ہونے جا رہے ہیں، اور پاکستان میں کھیلوں کی زبوں حالی اور حکومتی عدم دل چسپی کا یہ عالم ہے کہ سوائے چند ’وائلڈ انٹریز‘ کے کوئی بھی پاکستانی ایتھلیٹ ان مقابلوں کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکا ہے۔ یہاں تک کے فیلڈ ہاکی کی ٹیم بھی، جو اولمکپس میں ماضی میں پاکستان کو تمغے جتوا چکی ہے۔

ایک اولپمیئن کی درد ناک داستان

محمد عاشق لاہور کے علاقے سمن آباد کی ایک تنگ گلی میں کرائے کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہتے ہیں۔ چند برس قبل انہوں نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو میں بتایا تھا کہ وہ حالات کے ہاتھوں تنگ آ کر رکشہ چلانے پر مجبور ہوئے۔

عاشق کے بقول، ''پہلے میرے پاس ایک ویگن اور ایک ذاتی مکان بھی تھا۔ مگر بیوی کی بیماری اور تنگ دستی کے باعث مجھے دونوں املاک بیچنا پڑیں۔ اب میں گزشتہ آٹھ سال سے رکشہ چلا رہا ہوں۔ روزانہ دو تین سو روپے کما لیتا ہوں، جن سے مکان کے کرائے اور بیمار بیوی کے علاج سمیت روزمرہ اخراجات بڑی مشکل سے پورے کرتا ہوں۔‘‘

عاشق نے کہا کہ پاکستان میں ان سے بڑا کوئی سائیکلسٹ پیدا نہیں ہوا۔ اس لیے انہیں سب سے زیادہ اذیت اپنے ان ستر تمغوں کو دیکھ کر ہوتی ہے جو انہوں نے اپنے کیریئر کے شباب میں قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں جیتے تھے۔

محمد عاشق نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’مجھے چار بارحکومت نے قومی ہیرو کے ایوارڈ سے نوازا۔ مگر اب یہ سارے میڈل میرے کسی کام کے نہیں کیوں کہ اگر میں انہیں فروخت بھی کرنا چاہوں تو ان کا کوئی خریدار نہیں ملے گا۔‘‘

ستم ظریفی یہ کہ عاشق کے بقول دانستہ طور پر ایک ریس نہ ہارنے کی پاداش میں انہیں ان کے آجر ادارے پاکستان ریلویز کی ملازمت سے بھی ہاتھ دھونا پڑا جب کہ پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن نے بھی کبھی مڑ کر ان کی خبر نہیں لی۔

محمد عاشق کی خواجہ ناظم الدین سے لے کر ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر نواز شریف تک پاکستان کے ہر فوجی اور سول حکمران کے ساتھ بلیک اینڈ وائٹ اور رنگین تصاویر ان کی حکومتی ایوانوں تک رسائی کا ثبوت تو ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ پھر ماضی کے اس عظیم سائیکلسٹ کی مشکلات اور محرومیاں ختم کیوں نہیں ہوتیں؟

اس سوال کے جواب میں محمد عاشق کا کہنا تھا کہ پہلے تو انہوں نے کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا تھا مگر پھر حالات سے تنگ آ کر انہوں نے صدر مملکت اور وزیر اعظم کے علاوہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی کئی خطوط لکھے کہ انہیں ریلوے کے محکمے سے ان کی پینشن دلوائی جائے مگر ’کوئی شنوائی پھر بھی نہیں ہوئی‘۔ محمد عاشق کا کہنا ہے کہ وہ معاشرے سے ہمت ہارے بغیر لڑتے رہیں گے کیوں کہ وہ مایوس ہو جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔

'رکشہ چلانے میں کیا مضائقہ؟‘

ڈی ڈبلیو نے جب اس صورت حال کی طرف پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کے ترجمان وقار علی کی توجہ مبذول کروائی تو کچھ دیر ٹال مٹول سے کام لینے کے بعد وقار علی نے بھی محمد عاشق کی چمڑی سے زیادہ دمڑی کا رونا رونا شروع کر دیا۔

وقار علی کا کہنا تھا کہ فیڈریشن کے پاس کوئی ایونٹ کروانے کے لیے بھی فنڈز نہیں، ’’ہم اپنا ٹریک تک خود مرمت کرتے ہیں اور ویسے بھی اگر وہ رکشہ چلا رہے ہیں تو کام کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔‘‘

پاکستان میں قومی ہیروز کے ساتھ ایسے سوتیلے بچوں جیسے سلوک کو اخبار پاکستان ٹو ڈے کے اسپورٹس ایڈیٹر آغا اکبر بے حس اور خود غرض معاشرتی رویوں کا عکاس قرار دیتے ہیں۔

آغا اکبر کا کہنا تھا کہ سوسائٹی میں اسپورٹس، فن اور ادب کے ساتھ دوستانہ رویے کی روایات دم توڑ رہی ہیں۔ کارپوریٹ سیکٹر کی اپنی الگ ترجیحات ہیں اور اسپورٹس آرگنائزرز ’چل چلاؤ کی عکاس پالیسیوں‘ پر عمل پیرا ہیں جو انتہائی افسوسناک بات ہے۔

DW.COM