1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

محمد خاتمی کی صدارتی امیدواری سے دستبرداری

سابق ایرانی صدر محمد خاتمی کے صدارتی انتخاب سے دستبردار ہونے اور میر حیسن موسوی کی حمایت کے اعلان کرنے کے بعد ایران کی سیاسی صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔

default

صدارتی امیدوار میر حیسن موسوی اور سابق ایرانی صدر محمد خاتمی

یہ بات ہے رواں سال فروری کے اوائل کی کہ جب ایران کے سابق صدرمحمد خاتمی نے صداراتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد محمد خاتمی اور محمود احمدی نژاد کے مابین آئندہ جون میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں سخت مقابلے کی امید کی جارہی تھی۔ متعدد تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ محمد خاتمی وہ واحد امیدوار تھے جو احمدی نژاد کے دوسری مرتبہ صدارتی عہدے پر انتخاب کو روک سکتے تھے۔ لیکن اب صورت حال تبدیل ہو گئی ہے۔

صورت حال میں یکسر تبدیل کی وجہ سابق ایرانی صدر محمد خاتمی کا پیر کے روز دیا جانے والا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے اپنی انتخابی امیدواری سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔ اس بارے میں پہلے ہی سے قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں لیکن جرمن نشریاتی ادارے ARD کے استنبول بیورو سے موصولہ رپورٹوں نے بھی ان قیاس آرائیوں کی تصدیق کر دی ہے۔

65 سالہ محمد خاتمی1997 سے 2005 تک ایران کے صدر رہے۔ اپنے دور میں انہوں نے متعدد سماجی اور سیاسی اصلاحات متعارف کرائیں۔ اسی بناء پر وہ ایک کامیاب اصلاحات پسند ہونے کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔ ان کے دور حکومت میں ایران اور مغربی ممالک کے تعلقات میں بھی کشیدگی کم ہوئی تھی۔

Iran Großbritannien Streit um Fernsehansprache von Ahmadinedschad

قدامت پسند محمود احمدی نژاد اپنی پارٹی کی طرف سے واحد صدارتی امیدوار ہوں گے

باضابطہ طورپرابھی یہ واضح نہیں ہے کہ محمد خاتمی نے یہ فیصلہ کیوں کیا۔ یہ بہرحال کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ مبینہ طور پر اپنی زات کے حوالے سے سلامتی کے خطرات کے پیش نظر کیا۔

حالیہ دنوں میں انہیں کئی مرتبہ قتل کی دھمکیاں بھی ملتی رہی تھیں اور گذشتہ دنوں ان پر ایک حملہ بھی ہواتھا ، جو ان کے ایک محافظ کی بروقت مداخلت کے باعث ناکام رہا تھا۔ اس حملے کے بعد ان قیاس آرائیوں نے مزید زور پکڑا کہ ایران میں اسلامی عسکریت پسند خاتمی کو انتخابی مہم کے دوران قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تقریبا اسی طرح جیسے پاکستان میں بے نظیر بھٹو کو قتل کردیا گیا تھا۔

ایران کے ایک قدامت پسند اخبارکیہان نے اس بارے میں لکھا ہے:

’ امریکی بے نظیر بھٹو کی طرف سے حصول اقتدار میں اس لئے ان کی مدد کرنا چاہتے تھے کہ وہ بے نظیرکی مدد سے پاکستان کو لُوٹ سکیں۔ لیکن جیسے ہی ان کو یہ اندازہ ہوا کہ پاکستان پیپلز پارٹی انتخابات میں اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی توانہوں نے دوسرا طریقہ اپنایا۔ یہ ہمارے لئے ایک سبق ہونا چاہیے۔ ‘

اصلاحات پسند خاتمی کی دستبرداری سے قدامت پسند محمود احمدی نژاد کے مزید مظبوط ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں کیونکہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے والے دواور اعتدال پسند امیدواروں، مثلا ایرانی پارلیمان کے سابق اسپیکر مہدی قاروبی اور ایک اور سابقہ انتہائی اہم سیاستدان میر حسین موسوی کی مقبولیت ، خاتمی کے مقابلے میں کم ہے۔ ایران میں صدارتی انتخابات 12 جون کو منعقد ہوں گے اور محمد خاتمی کی دستبرداری کے بعد اب یہ بھی کہا جانے لگا ہے کہ ایرانی سیاست میں تبدیلی کے آثار کم ہو گئے ہیں۔