1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

محمد البرادئی شمالی کوریا میں

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی IAEA کے سربراہ محمد البرادئی دو روزہ دورے پر Pyongyang پہنچ گئے ہیں جہاں وہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خاتمے کی تصدیق کے لئے ایٹمی معائنہ کاروں کی واپسی کی اجازت حاصل کرنے پر بات چیت شروع کر دی ہے۔

default

شمالی کوریا کے ایٹمی تنازعے کے حل کے لئے گزشتہ ماہ چین میں ہونے والے چھ فریقی مزاکرات کے دوران Pyongyang نے سیاسی اور اقتصادی مراعات کے بدلے اپنی ایٹمی تنصیبات بند کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ امریکہ اور جاپان کے ساتھ تعلقات کی بحالی پر بات چیت کا آغاز بھی اس سمجھوتے سے مشروط کیا گیا تھا۔ IAEA کے سربراہ محمد البرادئی نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کے دورہِ Pyongyang کے دوران اس سمجھوتے پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر تفصیلی مزاکرات کا مثبت نتیجہ نکلے گا۔ انھوں نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ Pyongyang بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی میں دوبارہ شامل ہو جائے۔

سن 2002 میں شمالی کوریا نے ایٹمی معائنہ کاروں کو ملک سے نکال دیا تھا۔ ایک سال بعد ہی اس نے بین الاقوامی ایٹمی تخفیف اسلحے کے معاہدے سے دستبردار ہونے کے علاوہ IAEA سے تعلقعات منقطع کر دیئے تھے۔ شمالی کوریا نے کہا ہے کہ 13 فروری کو ہوئے سمجھوتے کے تحت وہ دو ماہ کے اندر اندر معائنہ کاروں کو واپسی کی اجازت دینے کے لئے تیار ہے۔ اپنا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر بند کردینے کے بدلے Pyongyang کو کل ایک ملین ٹن ایندھن امداد کے طور پر فراہم کیا جائے گا۔ شمالی کوریا کے دورے کے حوالے سے IAEA کے سربراہ محمد البرادئی نے کہا: ’Pyongyang واپس جانا اور وہاں کی قیادت سے بات چیت کرنا ایک مثبت قدم ہے جو کہ بلآخر جزیرہ نما کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے‘۔

تاہم انھوں نے کسی بھی جلد بازی سے خبردار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پہلے شمالی کوریا کے ساتھ اعتبار کی بحال کرنا لازمی ہے۔ چین نے Pyongyang اور IAEA کے مابین روابط کی ممکنہ بہتری کو اس تمام عمل میں ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ گزشتہ ماہ کے سمجھوتے پر عمل درآمد کی تفصیلات طے کرنے کے لئے آئندہ پیر کے روز سے Beijing میں چھ فریقی مزاکرات شروع ہونے والے ہیں۔ IAEA کے سربراہ جمعرات کو beijing واپسی لوٹنے پر امریکی مزاکرات کار Christopher Hill سے ملاقات کریں گے۔ دریں اثنا، اقوامِ متحدہ نے شمالی کوریا میں اپنا ترقیاتی پروگرام معطل کردیا ہے۔ جس پر Pyongyang نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سیاسی مقاصد سے دی جانے والی کسی بھی قسم کی امداد قبول نہیں کرے گا۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ایسا اس لئے کیا گیا ہے کیونکہ شمالی کوریا اس ضمن میں پہلے سے طے کردہ شرائط پر عمل درآمد میں ناکام رہا ہے۔