1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

محفوظ جنسی تعلق پر مبنی ڈرامہ، بھارت اور مصر کے ایم ٹی وی پر

محفوظ جنسی تعلق کیسے قائم کیا جائے؟ اس موضوع پر ایم ٹی وی کا بنایا ہوا ایک ڈرامہ تمام سب صحارا افریقہ میں شہرت کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ جنسی رویوں سے متعلق یہ ڈرامہ سریز اب بھارت اور مصر میں بھی نشر کی جائے گی۔

ایم ٹی وی نے جنسی رویوں سے متعلق اپنی ڈرامہ سیریز ’ایم ٹی وی شوگا‘ کو نہ صرف بھارت بلکہ مصر میں بھی نشر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ افریقہ سے باہر پہلی مرتبہ نشر کی جانے والی اس ڈرامہ سیریز کا نام ہندی میں ’ایم ٹی وی نِشِددھ‘ یعنی ’ایم ٹی وی ممنوع‘ رکھا گیا ہے۔

 ایم ٹی وی کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اس ڈرامہ سیریز میں ایچ آئی وی، ایڈز اور بچوں کے جنسی استحصال جیسے ممنوعہ موضوعات کے حوالے سے بات چیت کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مصر میں چلائی جانے والی سیریز کو عربی زبان میں نشر کیا جائے گا لیکن ابھی تک اس کے نام کا اعلان نہیں کیا گیا۔

عربی زبان میں تیار کی جانے والی اس ڈرامہ سیریز میں مانع حمل، کم عمری کی شادی اور خواتین کے ختنے جیسے موضوعات کو مرکزی اہمیت دی جائے گی کیوں کہ مصر جیسے معاشرے میں ان موضوعات کے حوالے سے بہت کم بات کی جاتی ہے۔ ایم ٹی وی کے مطابق دونوں ملکوں میں یہ نئے ایڈیشن سن 2020 میں نشر کیے جائیں گے۔

اس نیٹ ورک نے ’ایم ٹی وی شوگا‘ کے نئے سیزن کا بھی اعلان کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سن 2018 سے نئے سیزن کی اقساط نشر کرنا شروع کر دی جائیں گی اور اس ڈرامے کی پروڈکش نائجیریا میں ہی کی جائے گی۔

سماجی ذمہ داریوں کے لیے ایم ٹی وی انٹرنیشنل کی سینئر نائب صدر جارجیا آرنلڈ کا کہنا تھا، ’’ایم ٹی وی شوگا کے ساتھ ہم بین الاقوامی سطح پر یہ فارمیٹ متعارف کروا رہے ہیں۔ ہم غلط فہمیوں کو چیلینج کر رہے ہیں اور ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی چاہتے ہیں، جو کھل کر اور ایمانداری سے اپنی جنسی صحت کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ ہم انہیں متحرک بھی کرنا چاہتے ہیں تاکہ اگر انہیں کسی چیز کی ضرورت ہے تو وہ اس حوالے سے خدمات حاصل کریں۔‘‘

ایم ٹی وی کی طرف سے یہ اعلان لندن میں فیملی پلاننگ کے حوالے سے ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر کیا گیا ہے۔ ایم ٹی وی کو ایک میوزک چینل کے طور پر لانچ کیا گیا تھا لیکن اب یہ اپنا دائرہ کار وسیع کرتا جا رہا ہے۔

DW.COM