1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

محض تفریح کی خاطر افغان شہری ہلاک کئے گئے

پانچ امریکی فوجیوں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اُنہوں نے افغانستان میں قیام کے دوران نہتے اور بے گناہ افغان شہریوں کو محض تفریح کی غرض سے ہلاک کیا۔ امریکی فوج کے لئے یہ کیس دھماکہ خیز ثابت ہو سکتا ہے۔

default

امریکی فوجیوں میں گھرا ایک افغان

رواں ہفتے پیر کو امریکی شہر سیئٹل سے جنوب کی طرف واقع فوجی اڈے لیوئس میکارڈ پر ایک فوجی عدالت میں یہ جانچنے کی کوشش کی گئی کہ آیا اِن فوجیوں کے خلاف اتنے شواہد موجود ہیں کہ اُن کے خلاف باقاعدہ مقدمہ چلایا جا سکے۔ اِس ابتدائی سماعت کے دوران سب سے پہلے جیریمی مورلاک نامی ایک بائیس سالہ امریکی فوجی اِس عدالت میں پیش ہوا۔ اُس پر الزام ہے کہ اُس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اِس سال جنوری اور مئی کے درمیانی عرصے میں تین غیر مسلح افغان شہریوں کو موت کے گھاٹ اُتارا تھا۔

سماعت کے پہلے روز افغانستان سے ٹیلی فون پر اسپیشل ایجنٹ شینن رِچی نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ جیریمی مورلاک نے پوچھ گچھ کے دوران اِس بات کا اعتراف کیا تھا کہ وہ افغان شہریوں کو قتل کرنے کے متعدد واقعات میں شریک تھا۔ تاہم مورلاک کے وکیل مائیکل ویڈنگٹن نے کہا کہ اُس کا مؤکل کوئی ’خوفناک بلا‘ نہیں ہے بلکہ محض منشیات کا عادی ایک ایسا شخص ہے، جسے بیان دیتے وقت یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ کہہ کیا رہا ہے۔ وکیل نے کہا کہ جس وقت یہ پوچھ گچھ کی گئی، اُس کا مؤکل منشیات کے زیرِ اثر تھا اور ’اُس کا علاج کرنے کی بجائے اُسے اور زیادہ منشیات دی گئی تھیں‘۔ وکیل کے مطابق مورلاک نے نومبر 2009ء میں ادویات کا استعمال شروع کیا تھا، جو اُسے فوج ہی کی جانب سے فراہم کی گئی تھیں اور افغانستان سے امریکہ واپسی تک وہ اِن ادویات کو مسلسل استعمال کر رہا تھا۔

Bewaffneter Soldat einer amerikanischen Spezialeinheit auf afghanischem Boden

افغانستان کی سرزمین پر گشت کرتے ایک امریکی فوجی یونٹ کا ایک سپاہی، پس منظر میں افغان شہری نظر آ رہے ہیں

کرنل تھامس مولوئے کی سربراہی میں پیر کے روز ہونے والی پہلی سماعت میں اِس اعتبار سے کوئی زیادہ پیشرفت نہ ہو سکی کہ دَس سے زیادہ گواہوں نے، جن میں تینوں ملزمان بھی شامل ہیں، اپنا خاموش رہنے کا حق استعمال کیا۔ امریکی حکام کا الزام ہے کہ بارہ میں سے پانچ فوجیوں نے جنوبی صوبے قندھار میں کئی ماہ کے عرصے کے دوران متعدد افغان شہریوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی۔ دیگر سات ملزمان پر لاشوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور ہڈیاں الگ کرنے کے الزامات ہیں۔ اِن سات ملزمان پر تحقیقات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے، حشیش استعمال کرنے اور مخبری کرنے والے اپنے ایک ساتھی کو بری طرح سے پیٹنے کے بھی الزامات ہیں۔ آنے والے ہفتوں کے دوران دیگر فوجیوں کے بھی بیانات لئے جائیں گے اور اُس کے بعد ہی کوئی باقاعدہ مقدمہ چلانے یا نہ چلانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

اِسی دوران یُو ٹیوب پر وہ ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے، جس میں جیریمی مورلاک کو پوچھ گچھ کے دوران یہ اعتراف کرتے دکھایا گیا ہے کہ اُس نے اور اُس کے ساتھیوں کیلوِن گبز اور ایڈم وِنفیلڈ نے بے رحمی کے ساتھ افغان شہریوں کو ہلاک کیا اور اُن کے جسمانی اعضاء یادگار کے طور پر اپنے پاس محفوظ کئے۔ اِس سے پہلے عراق میں بھی امریکی فوجیوں کے ہاتھوں محض تفریح کی خاطر عراقی شہریوں کو ہلاک کرنے کی خبریں منظرِ عام پر آتی رہی ہیں۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس