1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

محدود پیمانے پر افغان مہاجرین کی ملک بدری جائز ہے: جرمنی

جرمن  وزیر داخلہ تھوماس دے میزیئر نے پانچ وفاقی جرمن ریاستوں کی جانب سے افغان مہاجرین کی ملک بدری روکنے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ محدود پیمانے ہر افغان مہاجرین کی ملک بدری جائز ہے۔

Deutschland Demo gegen die Abschiebung von Flüchtlinge nach Afghanistan in Berlin (picture-alliance/ZUMAPRESS.com/O. Messinger)

افغان مہاجرین کی ملک بدریوں کے خلاف مظاہروں کے باوجود یورپی یونین نے ان کی وطن واپسی کے لیے کابل حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا ہے

تھوماس دے میزیئر نے پیر کی شام اپنی معمول کی تقریر میں واضح کیا کہ محدود پیمانے پر افغان مہاجرین کی ملک بدری قابلِ جواز ہے۔ جرمن وزیرِ داخلہ نے مزید کہا، ’’ افغانستان میں سلامتی کی صورتِ حال پیچیدہ ضرور ہے لیکن وہاں محفوظ مقامات بھی ہیں۔ مثال کے طور پر ملک کے شمالی علاقے اور دارالحکومت کابل۔‘‘

دے میزیئر نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا ،’’ بنیاد پرست اسلامی طالبان کا ہدف ریاستی نمائندے، پولیس، سفارت خانے اور مغربی طرز کے ہوٹل ہیں۔ عام آبادی بھی اِس دہشت گردی کی صورتِ حال سے اگرچہ متاثر ہوئی ہے لیکن وہ طالبان کا براہِ راست نشانہ نہیں اور یہ بنیادی اور بڑا فرق ہے۔‘‘

 جرمنی سے افغان تارکینِ وطن کی ملک بدری متنازعہ ہو چکی ہے کیونکہ بہت سے ماہرین افغانستان کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔ گزشتہ برس اکتوبر میں کابل حکومت کے ساتھ افغان باشندوں کو وطن واہس بھیجنے کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ اِس معاہدے کے بعد جرمن وزارتِ داخلہ  نے  جرمن وفاقی ریاستوں سے اُن افغان پناہ گزینوں کی ترتیب وار ملک بدری کرنے کو کہا تھا جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔

Afghanistan abgeschobene Flüchtlinge aus Deutschland kommen in Kabul an (Getty Images/AFP/W. Kohsar)

گزشتہ برس دسمبر میں بڑے پیمانے پر اافغان مہاجرین کی پہلی ملک بدری عمل میں لائی گئی

گزشتہ برس دسمبر میں بڑے پیمانے پر ایسی پہلی ملک بدری عمل میں لائی گئی۔ تاہم چند ہفتے پہلے جرمنی کی پانچ ریاستوں نے افغان تارکینِ وطن کی ملک بدری پر عمل در آمد روک دیا۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی سیاسی جماعت سی ڈی یو سے تعلق رکھنے والے تھوماس دے میزیئر نے جرمن ریاستوں کی اِس پالیسی پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  چند روز قبل سب نے مل بیٹھ کر یہ فیصلہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ افغان مہاجرین کی ملک بدریوں کے خلاف مظاہروں کے باوجود یورپی یونین نے ان کی وطن واپسی کے لیے کابل حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا ہے۔ یورپی یونین جن شرائط کے تحت افغانستان کو مالی معاونت فراہم کر رہی ہے اس میں یہ شق بھی شامل ہے کہ کابل حکومت اپنے شہریوں کو واپس قبول کرے اور غیر قانونی طور پر یورپ کی جانب مہاجرت روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کرے گی۔    

DW.COM