محبوب کا دل نکالنے والی کے لیے موت کی سزا | معاشرہ | DW | 29.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

محبوب کا دل نکالنے والی کے لیے موت کی سزا

ایک بنگلہ دیشی عدالت نے اُس نوجوان خاتون کو سزائے موت سنائی ہے جس نے اپنے محبوب کا گلا کاٹنے کے بعد اُس کا سینہ چیر کر اُس کا دل نکال لیا تھا۔ یہ بات استغاثہ کی طرف سے بتائی گئی ہے۔

استغاثہ کے وکیل قاضی شبیر احمد کے مطابق 21 سالہ فاطمہ اختر سونالی نے اپنے محبوب کا قتل بدلے کے طور پر کیا، جو نہ صرف اس کے ساتھ جنسی تعلقات کی خفیہ ویڈیو ریکارڈنگ کرتا رہا بلکہ اُس سے شادی سے بھی انکار کر دیا۔

احمد کے مطابق سونالی نے اس شخص کے لیپ ٹاپ پر دیگر خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات کی ویڈیو فوٹیج بھی دیکھی تھی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے شبیر احمد کا کہنا تھا، ’’ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ کسی خاتون کو سزائے موت سنائی جائے، مگر اس کا کیس بہت ہی غیر معمولی ہے۔‘‘

وکیل استغاثہ کا مزید کہنا تھا، ’’اس نے عدالت کے سامنے اعتراف کیا کہ اس نے اپنے محبوب امداد الحق شیپون کو اُس سے شادی کرنے سے انکار اور اُن کے درمیان جنسی تعلق کی ویڈیو ریکارڈنگ اپنے لیپ ٹاپ پر رکھنے کی وجہ سے قتل کیا۔‘‘

اے ایف پی کے مطابق جج نے سونالی کو موت کی یہ سزا پیر 28 مارچ کو ملک کے جنوب مغربی شہر کھلنا کی ایک عدالت میں سنائی جو فیصلے کے وقت لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔

سونالی کو موت کی یہ سزا پیر 28 مارچ کو ملک کے جنوب مغربی شہر کھلنا کی ایک عدالت میں سنائی جو فیصلے کے وقت لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی

سونالی کو موت کی یہ سزا پیر 28 مارچ کو ملک کے جنوب مغربی شہر کھلنا کی ایک عدالت میں سنائی جو فیصلے کے وقت لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی

اپنے اعترافی بیان میں سونالی نے بتایا کہ اُس نے ایک سافٹ ڈرنک میں نیند کی 20 گولیاں ڈال کر 28 سالہ شیپون کو پلائی جو ایک ہسپتال میں لفٹ آپریٹر کے طور پر پارٹ ٹائم ملازمت کرتا تھا۔ جب وہ گہری نیند میں چلا گیا تو سونالی نے اُس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے اور پھر اُس کا گلا کاٹ کر اسے قتل کر دیا۔ بعد ازاں سونالی نے اس کا سینہ چاک کر کے اس کا دل باہر نکال دیا۔

وکیل استغاثہ اختر احمد کے مطابق، ’’اُس نے عدالت کو بتایا کہ وہ یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ اُس کا دِل آخر کتنا بڑا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اِس طرح کے جرائم کرنے کے لیے ایک مرد کا دل بہت بڑا ہونا چاہیے۔‘‘

سونالی نے یہ قتل مارچ 2014ء میں کیا تھا اور گزشتہ روز اُسے سنائی جانے والی سزائے موت کے خلاف وہ ملکی ہائیکورٹ میں اپیل کرنے کا حق رکھتی ہے۔ بنگلہ دیش کی جیلوں کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل ٹیپو سلطان کے مطابق اگر سونالی کی سزائے موت پر عمل ہوا تو وہ بنگلہ دیش میں پہلی ایسی خاتون ہو گی جسے سزائے موت دی جائے گی۔