1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

محبوب اور ملازمت پانے کے ’روسی طریقے‘

موسم سرما کی سرد راتیں نوجوان روسی لڑکیاں کچھ ایسی ’سرگرمیوں’ میں بھی وقت گزارتی ہیں، جو عمل کے لحاظ سے دیگر معاشروں سے مختلف ہو سکتی ہے، تاہم مقصد کے لحاظ سے انہیں مشترک بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

default

جی ہاں، سردیوں کی راتوں میں روسی لڑکیاں کھڑکی سے اپنے جوتے باہر پھینکتی ہیں، اخبار توڑتی مروڑتی ہیں ۔۔۔ اور ان کاموں کا مقصد ہوتا ہے، اپنے لیے مستقبل کے کیریئر اور شوہر کے بارے میں جاننا۔

اس بارے میں ایک غیر واضح سی روایت پائی جاتی ہے، جو دراصل 19ویں صدی کے ادب سے آئی ہے اور آج بھی زندہ ہے۔ روایت ہے کہ روسی چھ اور سات جنوری کو منائے جانے والے آرتھوڈوکس مسیحیوں کے کرسمس اور 19جنوری کو منائی جانے والی ظہورالمسیح کی عید کے درمیانی عرصے میں قسمت کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

Orthodoxer Silvesterfeier in Moskau

کچھ روسی لوگ دل بہلانے کے لئے بھی ایسا کرتے ہیں

بہت سے روسی اس روایت کے بارے میں انتہائی سنجیدہ ہیں۔ انتیس سالہ یلینا بتاتی ہے کہ موم کے ایک ٹکڑے کو پگھلا کر وہ اسے ٹھنڈے پانی کے ایک پیالے میں پھینکتی ہے، جس کے بعد وہ زندگی کو بدل ڈالنے والا فیصلہ کرتی ہیں، مثال کے طور پر ملازمت چھوڑ کر اپنی پبلک ریلیشنز کمپنی کے قیام کا۔

یلینا نے خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں کہا، ’میں نے پگھلی ہوئی موم ٹھنڈے پانی میں ڈالی تو اس نے پہاڑ پر چڑھتے ہوئے ایک شخص کا روپ دھار لیا۔ تبھی میں نے نوکری چھوڑ کر اپنا کاروبار کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

کیریئر ہی نہیں، ایسے طریقوں کے ذریعے لڑکیاں محبت اور محبوب کا پتہ بھی لگاتی ہیں۔ چھتیس سالہ کاتیا کہتی ہیں، ’پندرہ سال پہلے میں نے اپنے مستقبل کے شوہرکا پروفائل دیکھا تھا۔ ‘

حالانکہ تین سال پہلے ان کی طلاق ہو چکی ہے، لیکن وہ اب بھی ایسی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ اب ایسا موج مستی کے لیے کرتی ہے۔

مستقبل کے شوہر کے بارے میں جاننے کے لیے متعدد طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ بعض لڑکیاں جوتے کھڑکی کے راستے باہر پھینکتی ہیں۔ اگر وہ جوتا کوئی مرد اٹھائے تو وہ اس کا نام پوچھتی ہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کی شادی اسی نام کے مرد سے ہوگی۔

مرہر نفسیات سویٹلانا فِدوروفا کہتی ہیں، ’روس کے عوام اس طرح قسمت کا حال جاننے کو پسند کرتے ہیں کیونکہ یوں وہ لاشعوری طور پر سکون محسوس کرتے ہیں۔‘

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عاطف بلوچ