1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

محبوبہ مفتی نےکشمیر کی وزیر اعلیٰ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں

پیر چار اپریل کے روز محبوبہ مفتی نے بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ اس انتہائی قدامت پسند ریاست میں پہلی مرتبہ کوئی خاتون اس عہدے پر براجمان ہوئی ہیں۔

محبوبہ مفتی کے والد مفتی محمد سعید تین ماہ قبل انتقال کر گئے تھے۔ انتقال کے وقت وہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز تھے۔ گزشتہ برس انتخابات کے بعد بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں مفتی محمد سعید نے مرکز میں حکمران بھارتیہ جتنا پارٹی کے ساتھ مل کر ایک اتحاد قائم کیا تھا، جس کے بعد وہ ریاستی اسمبلی میں وزیر اعلیٰ منتخب کر لیے گئے تھے۔ مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد سے اس مسلم اکثریتی ریاست کا انتظام بھارتی کی مرکزی حکومت نے براہ راست اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے ابتدا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ کشمیر میں اس غیرمقبول اتحاد کے تحت حکومت قائم کرنے سے اجتناب کیا تھا۔

Mufti Mohammed Sayeed

مفتی محمد سید نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت قائم کی تھی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کا مضبوط گڑھ مسلم اکثریتی کشمیری علاقے ہیں اور انہی علاقوں میں علیحدگی پسندی کی تحریک بھی جاری ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کشمیر کی بھارت سے علیحدگی کا مطالبہ نہیں کرتی۔

گزشتہ ماہ محبوبہ مفتی اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ملاقات کے بعد ایک ڈیل طے پائی تھی، جس کے تحت محبوبہ مفتی نے وزارت اعلیٰ کا قلم دان سنبھالنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس ڈیل کی تفصیلات اب تک سامنے نہیں آئیں۔

محبوبہ مفتی کے وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد وہ بھارت میں اس وقت ریاستی حکومت کی سربراہی کرنے والی پانچویں خاتون وزیر اعلیٰ بن گئی ہیں، تاہم کشمیر میں یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی خاتون اس منصب پر فائز ہوئی ہے۔

کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان منقسم اور متنازعہ علاقہ ہے، جسے دونوں ممالک اپنا اپنا حصہ قرار دیتے ہیں۔ اسی علاقے میں مختلف عسکری گروہ بھی حکومتی فورسز پر حملوں میں سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ پاکستان ان عسکری گروہوں کی مدد کرتا ہے، تاہم پاکستان ان بھارتی الزامات کی تردید کرتا ہے۔