1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

محبت کو تالہ لگانے کی جگہ اب پیرس میں بھی

پیرس میں سین دریا کے کنارے واقع ''Pont des Arts محبت کرنے والوں کے لئے ایک خاص جگہ بن گئی ہے جہاں وہ اپنی محبت کو ابدی بنانےکے لئے ایک تا لے کو پل کی ریلنگ پر لگا دیتے ہیں اور چابی دریا میں پیھنک دیتے ہیں۔

default

یہ رسم دنیا بھر کےکئی شہروں میں عام ہے مگر خاص کر یورپ میں کافی مشہور ہے۔یہ محبت کے تالے یا Love Locks یورپ کے مختلف شہروں میں دریاؤں پر واقع پلوں پرمل جاتے ہیں جن میں روم، ماسکو، پراگ، فلورنس اور جرمن شہرکولون شامل ہیں۔

وکیپیڈیا کے مطابق یہ رسم ہنگری سے شروع ہوئی تھی۔ پیرس جوکہ دنیا کا رومانوی ترین شہر مانا جاتا ہے وہاں اس رسم کو اپنی جڑیں مضبوط کرنے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آئی اور اب وہاں دریائے سین پر واقع پل پر روسی گیٹ تالوں سے لے کر عام چھوٹے چھوٹے تالے وہاں سیر اور تفریح کے لئے آنے والے سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

Eifelturm in Paris

پیرس کا ایفل ٹاور

سین پر اس جگہ سے گزرنے والے ایک برطانوی سیاح نے ایک دلچسپ بات بتائی کہ نئے دور کے عقلمند محبت کرنے والے اس طرح کے تالے استعمال کرنے لگے ہیں کہ اگر ان کی محبت کامیاب نہیں ہوتی تووہ پرانے تالےکو تبدیل کرسکیں۔

پہلے کی نسلیں درختوں پر اپنے نام لکھتی تھیں تاہم آج کے محبت کرنے والوں کو دھات پر اپنے نام لکھ کر اپنی محبت ثابت کرنی پڑتی ہے۔ ان تالوں پر کبھی پھولوں کے گلدستے بنے ہوتے ہیں، کبھی دل تو کبھی لب۔ ساتھ میں جوڑوں کے نام اور جس جگہ سے ان کا تعلق ہے وہاں کا نام بھی۔ جبکہ کبھی کبھی نیل پالش سے ہمیشہ ساتھ رہنے کے وعدے بھی لکھے ہوتے ہیں۔

زیادہ تر تالے بالکل نئے ہیں اور ان پر رواں برس یعنی سال 2010 کی ہی کی تاریخیں لکھی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ رواں سال کے اوائل میں تقریباﹰ دو ہزار تالے پل کی ریلینگ سے پرسرار طور پر غائب ہوگئے تھے اور کسی کو بھی نہیں معلوم کہ اس کی وجہ کیا تھی یا اس کے پیچھے کون تھا۔

Deutsche Bahn Wetter Hitze Hitzewelle Klimaanlage Sommer Sonne Flash-Galerie

کلون میں بھی پلوں پر لَولاکس بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں

پیرس کی شہری حکومت نے جو کچھ عرصے پہلے ان تالوں کو تنقید کا نشانہ بناچکی ہے، اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے لوگوں کو یقین دلایا ہےکہ وہ اس کا اس سےکوئی تعلق نہیں ہے۔ پیرس پولیس بھی اس واقع سے لاتعلقی کا اظہارکرچکی ہے۔

لَولاکس پیرس کے ہر پُل پر نظر آتے ہیں مگر کسی کو بھی یہ نہیں پتا کہ یہ پیرس میں کس نے متعارف کرائے تھے۔ ایک آرٹسٹ 'مچل موریس' کا جو کہ ان پلوں پر ایک لمبے عرصے سے تصاویر بناتا آرہا ہے، کہنا ہے کہ یہ تالے پیرس میں اٹلی کے شہریوں نے متعارف کرائے تھے۔ اور جہاں تک ان تالوں کے غائب ہونے کی بات ہے تو اس بارے میں مچل کا کہنا ہے کہ اسے اس بات کا یقین تو نہیں ہے مگر اسے یہ کام ناکارہ لوہا جمع کرنے والوں کا لگتا ہے۔

]رپورٹ : سمن جعفری

ادارت : افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس