1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

’’مجھ پر بوجھ بہت بڑھ گیا ہے‘‘، زمین کی پکار

زمین پر قدرتی اور معدنی وسائل کے استعمال کا رجحان مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی قلت کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ انسانوں کے طرز زندگی بدلنے سے ہی اس سیارے کو بچایا جا سکتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ 2000ء میں انسانوں نے قدرتی وسائل کا اپنا سالانہ کوٹہ یکم اکتوبر کو ہی پورا کر لیا تھا جبکہ 2015ء میں یہ وسائل 13 اگست کو ہی ختم ہو چکے ہیں۔ ایک ماہر کرسٹینے پول سے جب پوچھا گیا کہ اگر زمین بول سکتی تو وہ اس موقع پر کیا کہتی، تو ان کا جواب تھا، ’’زمین کہتی: میں تنہا ہوں اور مجھ پر بوجھ بہت زیادہ ہے۔‘‘ قدرتی و معدنی وسائل کے تحفظ کے ایک جرمن ادارے سے منسلک رولف بشمان کے مطابق ’’جہاں تک قدرتی وسائل کی بات ہے تو جمعرات تیرہ اگست سے ہم ایک طرح سے ادھار پر رہ رہے ہیں‘‘۔

انسانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور بدلتا ہوا طرز زندگی وسائل کی کمی کا باعث بن رہا ہے۔ خام مال، قابل کاشت زمین، پانی اور جنگلات کو بچانے اور مانگ پوری کرنے کے لیے موجودہ صورتحال میں ایک نہیں بلکہ ڈیڑھ زمین چاہیے۔ اگر تمام ممالک کی اقتصادی کارکردگی جرمنی کی طرح ہو جائے تو زمین جیسے ڈھائی سیاروں کی ضرورت پڑے گی۔

کرسٹینے پول کے مطابق زمین کا ضرورت سے زیادہ استعمال ضرر رساں گیسوں کے زیادہ اخراج کا بھی سبب بن رہا ہے:’’زمین اب آلودہ عناصر کو قبول کرنے یا انہیں جنگلات میں ٹھکانے لگانے یا پھر انہیں فضا میں چھوڑنے کی مزید متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ سب کچھ ماحولیاتی تبدیلوں کا باعث بن رہا ہے۔ 2013ء میں پیش کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر ہر شخص سالانہ 4.9 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کر رہا ہے۔ زمینی حدت کو دو سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے لیے 2050ء تک اس شرح کو دو ٹن تک محدود کرنا لازمی ہے۔

کرسٹینے پول کے مطابق زمین کو سب سے زیادہ نقصان ان ممالک میں پہنچ رہا ہے، جہاں اس سیارے کو تحفظ دینے کے اقدامات کا فقدان دکھائی دے رہا ہے:’’ نتیجتاً موسم میں اچانک تبدیلی کے علاوہ شدید گرمی، خشک سالی اور سیلابوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ حیاتیاتی تنوع بھی تباہی کا شکار ہے اور اشیائے خوراک کی قلت کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ان وجوہات کی بناء پر لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑنا بھی پڑ رہے ہیں۔